ٹرمپ کے ساتھ وہی ہوگا جو فرعون، نمرود اور رضا شاہ کے ساتھ ہوا: خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا جو فرعون، نمرود اور ایران کے سابق حکمران رضا شاہ کے ساتھ ہوا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے پیر کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ غرور میں ڈوبا یہ شخص پوری دنیا کے فیصلے کر رہا ہے، لیکن اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ اقتدار کے عروج پر طاقتور ترین حکمرانوں کے ساتھ کیا انجام ہوا۔

واضح رہے کہ ایران میں جاری مظاہروں کے دوران شہادتوں اور گرفتاریاں اب بھی بڑھ رہی ہیں۔
سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اب تک مظاہروں میں 114 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں، جبکہ امریکی انسانی حقوق تنظیم ایچ آر اے این اے کے مطابق پچھلے دو ہفتوں میں 544 افراد مارے گئے ہیں اور 10 ہزار 681 مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
ایران میں مزاحمت میں شہید ہونے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے اور آج دوپہر تہران کے انقلاب اسکوائر سے ایک بڑی ریلی نکالی جائے گی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے، مگر مسلح گروہوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معیشت کے مسائل کے حل کے لیے کام جاری ہے اور جلد موجودہ بحران پر قابو پایا جائے گا۔
دوسری جانب ایران نے لندن میں مظاہرین کے ایرانی سفارت خانے سے پرچم اتارنے کے واقعے پر برطانوی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اور اسرائیلی مداخلت کے ٹھوس شواہد ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں احتجاج واقعی آزادی کا مظاہرہ دکھائی دیتا ہے یا نہیں، اس پر سوال اٹھایا جانا چاہیے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا میں چند روز قبل ایک نہتی خاتون کو امیگریشن اہلکار نے قتل کیا اور امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے عوام کو احتجاج کرنے سے روکنے کے لیے کھلی دھمکیاں دیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ایران میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گرد کہنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، کیونکہ ایران میں دہشت گردوں کی سرپرستی وہ عناصر کر رہے ہیں جنہیں مائیک پومپیو نے موساد کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔
خامنہ ای کے سخت بیان اور جاری مظاہروں نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور صورتحال خطے کے لیے تشویشناک بنی ہوئی ہے۔














