نئی فلسطینی اتھارٹی کے قیام پر حماس کا غزہ میں اپنی حکومت ختم کرنے کا فیصلہ
کا کہنا ہے کہ حماس غزہ میں بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کے بعد حکومتی منظرنامے سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے۔
اتوار کو اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایسو سی ایٹڈ پریس نے ایک مصری عہدیدار کے مطابق رپورٹ میں بتایا حماس اس ہفتے دیگر فلسطینی دھڑوں سے ملاقات کرے گی تاکہ کمیٹی کی تشکیل کو حتمی شکل دی جا سکے۔ عہدیدار نے بتایا کہ حماس کے وفد کی قیادت سینئر مذاکرات کار خلیل الحیہ کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ اس ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی نگرانی کرے گا اور حماس کو غیر مسلح کرنے، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی، اسرائیلی فوج کے مزید انخلا اور غزہ کی تعمیر نو جیسے معاملات سنبھالے گا۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق ان محاذوں پر اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی، البتہ توقع ہے کہ بورڈ کے ارکان کے نام اسی ہفتے سامنے آ جائیں گے۔
اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ حماس غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے تیار ہے، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے وعدوں سے مکر رہے ہیں۔
حماس نے اعلان کیا ہے کہ جیسے ہی ایک نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹ قیادت غزہ کا انتظام سنبھالے گی، وہ اپنی موجودہ حکومت تحلیل کر دے گی۔ یہ اعلان امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی اور امن منصوبے کے تحت سامنے آیا ہے، تاہم اس عمل کے آغاز سے متعلق کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
حماس اور فلسطینی اتھارٹی، جو فلسطینیوں کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نمائندہ ہے، اب تک اس ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے ارکان کے ناموں کا اعلان نہیں کر سکیں۔ ان ارکان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہونا چاہیے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اسرائیل اور امریکا اس کمیٹی کی منظوری دیں گے یا نہیں۔
امن منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی ادارہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ تشکیل دیا جانا ہے، جس کی قیادت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔ یہ بورڈ جنگ بندی، حماس کو غیر مسلح کرنے، بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی تعیناتی اور غزہ کی تعمیر نو سمیت دیگر معاملات کی نگرانی کرے گا۔ تاہم بورڈ کے ارکان کے نام بھی تاحال سامنے نہیں آ سکے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ بلغارین سفارتکار نکولے ملادینوف کو بورڈ آف پیس کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ ملادینوف اس سے قبل اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ امن ایلچی کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
اسی دوران اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈیون سار نے یروشلم میں جاپانی وزیر خارجہ توشیمتسو موتیگی سے ملاقات کی، جہاں اسرائیل نے امن منصوبے پر عملدرآمد کے عزم کا اظہار کیا جبکہ جاپان نے جنگ بندی میں فعال کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی اسپتال حکام کے مطابق اسرائیلی فائرنگ سے تین فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا تھا، جس کے تحت لڑائی روکنے کے ساتھ ساتھ غزہ میں قید یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں قید ہزاروں فلسطینیوں کو رہا کیا گیا۔ معاہدہ اس وقت اپنے پہلے مرحلے میں ہے اور غزہ میں موجود آخری یرغمالی کی باقیات کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیں۔














