صدر کی منظوری کے بغیر آرڈیننس کا اجرا: پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

پیپلز پارٹی نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا، بلاول بھٹو کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل طلب
شائع 12 جنوری 2026 08:10pm

ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز ترمیمی آرڈیننس صدرِ مملکت آصف علی زررداری کی منظوری کے بغیر جاری ہونے پر پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) حکومت سے ناراض ہوگئی، جس کے باعث پارٹی نے ایوان سے آؤٹ کرتے ہوئے کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس 36 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر نے موجودہ پارلیمانی سیشن کے لیے پینل آف چیئر کا اعلان کیا، جس میں علی طاہر، نزہت صادق، عبدالقادر پٹیل، شہلا رضا اور ارباب شیر کے نام شامل تھے۔

اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے رکن اور سابق اسپیکر سید نوید قمر نے اپوزیشن لیڈر کا پروسیجر پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون سازی کرنا اس ایوان کی بنیادی ذمہ داری ہے، ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا جو صدر مملکت کے دستخط اور منظوری کے بغیر نافذ کیا گیا۔

سید نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ حکومت کس طرح صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کر سکتی ہے جب کہ بدترین آمروں کے ادوار میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا۔

پیپلزپارٹی نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز ترمیمی آرڈیننس صدر کی منظوری کے بغیر جاری ہونے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

پیپلز پارٹی نے ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ پہلی بار آرڈیننس صدرِ مملکت کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا، جو آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں، آرڈیننس کے اجرا کے طریقہ کار پر شدید اعتراض ہے اور اسی وجہ سے پارٹی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کو بتایا کہ کچھ قوانین ایسے ہیں جن کی صدر مملکت نے توثیق کر دی ہے اور حکومت سمجھتی ہے کہ متعلقہ آرڈیننس بھی صدر نے سائن کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی آرڈیننس اور بل اس وقت صدر کے پاس توثیق کے لیے موجود ہیں، اگر کسی معاملے میں ابہام ہے تو اس کا جائزہ لے لیا جائے گا۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ قانون سازی حکومت کا بنیادی مقصد ہے۔

اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے رکن حسین طارق نے کورم کی نشاندہی کی، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اعلان کیا کہ ایوان میں کورم پورا نہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے 15 منٹ کے لیے وقفہ کردیا تاہم کورم مکمل نہ ہونے پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اب کل صبح گیارہ بجے دوبارہ منعقد ہوگا۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل دوپہر 2 بجے طلب کرلیا گیا، جلاس کی صدارت چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری زوم پر کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پیپلزپارٹی آئینی عمل کے طریقہ کار کے تحفظات پر ارکان سے مشاورت کرے گی۔

اسلام آباد

Bilawal Bhutto Zardari

azam nazir tarar

Pakistan People's Party (PPP)

President Asif Ali Zardari

Islamabad Local Government Elections

LOCAL BODIES ORDENCE