پانی سے محروم کراچی میں واٹر ٹینکر سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ

آدھے شہر کو پانی دینے والے تمام واٹر ہائیڈرنٹس بند، شہری تشویش میں مبتلا
اپ ڈیٹ 14 جنوری 2026 11:24am

بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شہر میں ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کے ذریعے پانی کی فراہمی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس حوالے سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کے اعلیٰ حکام کو متبادل نظام متعارف کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

میئر کراچی کے مطابق ہائیڈرنٹس کا ٹھیکہ رواں سال سے قبل مکمل ہو چکا تھا، جسے وقتاً فوقتاً توسیع دی جاتی رہی۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ شہر میں قائم سات واٹر ہائیڈرنٹس سے واٹر بورڈ کو سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے کی آمدن ہو رہی تھی، تاہم اب ٹینکر سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ نافذ کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا ایک بڑا حصہ واٹر ٹینکرز پر انحصار کرتا ہے کیونکہ متعدد چھوٹی اور بڑی آبادیوں میں واٹر بورڈ کا بنیادی انفرااسٹرکچر موجود ہی نہیں، جس کے باعث وہاں پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ٹینکرز ہیں۔

حکام کے مطابق انہی وجوہات کے پیش نظر روزانہ چلنے والے تقریباً 1400 واٹر ٹینکرز کو وقت کی پابندی سے آزاد کیا گیا تھا، جبکہ ای چالان کے نظام کے لیے ٹینکرز میں ٹریکر لگانے کی تجویز بھی زیر غور رہی۔

شہر کے مختلف علاقوں صفورا، نیپا، کرش پلانٹ، محمود آباد، گارڈن، بلدیہ اور سخی حسن سے ہنگامی بنیادوں پر آگ بجھانے کے لیے بھی پانی فراہم کیا جاتا رہا ہے۔

دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے موجودہ انفرااسٹرکچر میں سردیوں کے موسم میں بھی پانی کی فراہمی تسلی بخش نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں اگر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی بھی بند کر دی گئی تو شہریوں کے پاس پانی حاصل کرنے کا کوئی متبادل ذریعہ نہیں بچے گا۔

شہریوں نے فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی فراہمی کا مؤثر اور متبادل نظام بنائے بغیر ایسے اقدامات نہ کیے جائیں۔

KWSB

mayor karachi

water tanker

karachi Murtaza Wahab