ٹرمپ کا شاہِ ایران کے بیٹے پر عدم اعتماد، حمایت سے انکار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہِ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کی ایران میں مقبولیت اور قیادت کی اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اچھے انسان تو دکھائی دیتے ہیں، مگر واضح نہیں ہے کہ وہ ایران کے اندر عوامی حمایت حاصل کر پائیں گے یا نہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران میں موجودہ حکومت کے خاتمے کا امکان موجود ہے، تاہم اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں کوئی بھی حکومت گر سکتی ہے اور ایران میں بھی حالات ایک دلچسپ موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر رضا پہلوی کی مکمل حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ محمد رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں جنہیں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ رضا پہلوی امریکا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
رضا پہلوی ایران میں ہوئے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کی ایک نمایاں آواز بن کر سامنے آئے ہیں۔
تاہم، ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے، جن میں شاہی نظام کے حامی بھی شامل ہیں، اور ان میں سے بیشتر کی ایران کے اندر منظم موجودگی محدود سمجھی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ رضا پہلوی بظاہر اچھے اور مہذب شخص ہیں، مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ انہیں اپنے ملک میں قبول کیا جائے گا یا نہیں۔
ترمپ کے مطابق ابھی صورتحال اس مقام تک نہیں پہنچی کہ ایران کی نئی قیادت کے حوالسے کوئی فیصلہ کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کے عوام کسی متبادل قیادت کو قبول کرتے ہیں تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی قیادت سے متعلق فیصلہ ایران کے اندر سے ہی آنا چاہیے۔















