آفس کرسی پر مستقل بیٹھنا آپ کو کن کن بیماریوں میں مبتلا کرسکتا ہے

صحت بڑی تبدیلیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتی ہے۔
اپ ڈیٹ 15 جنوری 2026 03:01pm

دورحاضر میں دفتر ہو یا گھر، زیادہ تر افراد گھنٹوں ایک ہی جگہ کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا عام ہوگیا ہے۔ مگر ماہرین صحت کے مطابق یہ معمولی سی عادت وقت کے ساتھ سنگین طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف جم جانا یا ورزش کرنا کافی نہیں، بلکہ دن بھر جسم کو حرکت میں رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کے پٹھے کمزور پڑنے لگتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ہڈیاں دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جو آہستہ آہستہ مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنے سے ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثر پڑتا ہے اور جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وزن بڑھنے اور تھکن محسوس ہونے لگتی ہے۔

ماہرین صحت ایک آسان اور عملی اصول تجویز کرتے ہیں جسے ’30 منٹ کا اصول‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق ہر 30 منٹ بعد کرسی سے اٹھنا چاہیے۔

عام دفتری اوقات میں کم از کم 8 سے 10 مرتبہ کھڑے ہونا، چند قدم چلنا یا ہلکی اسٹریچنگ کرنا صحت کے لیے مفید ہے۔

صرف دو منٹ کی ہلکی واک یا جسم کو اسٹریج کرنے سے نہ صرف خون کی روانی بہتر ہوتی ہے بلکہ پٹھوں کی اکڑن بھی کم ہو جاتی ہے اور کمر، کندھوں اور ٹانگوں کے درد میں واضح کمی آتی ہے۔

طویل وقت تک مسلسل بیٹھے رہنے سے جسم کی توانائی استعمال کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے، جس کے باعث وزن بڑھنا، کمر اور گھٹنوں میں درد، غلط جسمانی ساخت، بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ اور کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایسی عادت دل کے امراض اور ذیابیطس کے خطرات کو بھی بڑھا دیتی ہے، اس لیے روزمرہ زندگی میں حرکت کو شامل کرنا بے حد ضروری ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہر بار کرسی سے اٹھنے پر سخت ورزش کرنا ضروری نہیں۔ ہلکی اسٹریچنگ، چند قدم چلنا، پانی پینا یا واش روم جانا جیسی سادہ سرگرمیاں بھی جسم کو متحرک رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس سے جسم کو یہ پیغام ملتا ہے کہ وہ آرام کی حالت سے نکل کر دوبارہ فعال ہو جائے، جو طویل مدتی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

اگر آپ روزمرہ زندگی میں باقاعدگی سے وقفے لے کر بیٹھنے کی عادت اپنا لیں تو اس کے صحت پر کئی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

وقفے وقفے سے اٹھنے اور ہلکی پھلکی حرکت کرنے سے پیٹھ اور گردن پر پڑنے والا دباؤ کم ہو جاتا ہے، جس سے درد اور اکڑن میں نمایاں کمی آتی ہے۔

اس عادت سے جسم کا میٹابولزم متحرک رہتا ہے، جس کے باعث وزن بڑھنے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح خون میں شوگر کی سطح زیادہ مستحکم رہتی ہے اور کولیسٹرول بہتر کنٹرول میں آتا ہے، جو مجموعی طور پر دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

مسلسل بیٹھنے سے بچاؤ دل کے امراض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے اور انسان خود کو زیادہ توانا اور چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔

ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صحت بڑی تبدیلیوں سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادتوں سے بنتی ہے۔ دن میں بار بار اٹھ کر چلنا، جسم کو حرکت دینا اور اس کی ضروریات کو سمجھنا ایک آسان مگر مؤثر طریقہ ہے، جو انسان کو صحت مند، چست اور توانائی سے بھرپور رکھ سکتا ہے۔

sick

office chai

for hours

Sitting