بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے موبائل کا لالچ دینا کتنا خطرناک ہے؟

بچوں کی خاموشی کی قیمت: اسکرین نے ہمارے بچوں سے کیا چھین لیا؟
اپ ڈیٹ 17 جنوری 2026 11:03am

چھوٹے بچوں کو اسکرین کے حوالے کرنا آج کل ایک معمول بنتا جا رہا ہے، مگر یہ معمول دراصل ایک خاموش خطرہ بن چکا ہے۔ زندگی کے ابتدائی سال، جن میں بچے کا دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے، اب اکثر موبائل اسکرین کے سامنے گزر رہے ہیں، جو ان کی زبان، رویے، جذبات اور عادات کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

جو چیز والدین کو وقتی سکون، خاموشی اور سہولت فراہم کرتی ہے، وہی بچوں کے قدرتی سیکھنے کے عمل کو محدود کر رہی ہے۔

بچوں کو موبائل کا عادی بنانے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کے منفی اثرات فوراً سامنے نہیں آتے، بلکہ آہستہ آہستہ بچوں کی شخصیت، صحت اور ذہنی صلاحیتوں کا حصہ بن جاتے ہیں، اور تب تک یہ عادت جڑ پکڑ چکی ہوتی ہے۔

ریسٹورنٹ یا گھریلو ماحول میں اکثر بچے پرسکون دکھائی دیتے ہیں، مگر یہ پرسکون خاموشی صحت مند ہونے کی علامت نہیں۔

یاد رکھیں کھانے کے دوران بچوں کو موبائل دینا بظاہر آسان لگتا ہے، مگر یہ ان کی صحت اور عادات کے لیے خطرناک ہے۔ اس سے بچے، کھانا توجہ سے نہیں کھاتے اور والدین کے ساتھ بات چیت اور جذباتی تعلق کم ہو جاتا ہے، جو زبان، رویوں اور سماجی صلاحیتوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

ڈاکٹرز بتاتے ہیں کہ زیادہ تر والدین یہ محسوس نہیں کرتے کہ اسکرین کے ساتھ وقت گزارنا بچوں کی نیند، بولنے کی صلاحیت، توجہ کی مدت اور جذباتی استحکام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ کچھ بچوں میں ابتدائی عمر میں نظر یا وزن کے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ علامات فوری طور پر خطرناک نہیں لگتیں، مگر بار بار دہرائی جانے والی عادات بچوں کی نشوونما میں دیرپا اثر ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین اطفال کے مطابق بچوں کے ابتدائی دو سال ان کی زندگی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹرسوزنا سیٹھی کے مطابق اسی دوران دماغ میں نیورل کنکشن بنتے ہیں جو سیکھنے، جذباتی کنٹرول، رویے اور مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ زیادہ اسکرین دیکھنا زبان سیکھنے، توجہ مرکوز کرنے اور سماجی تعلقات بنانے کی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے۔

بے ترتیب نیند اور کھانے کے معمولات دماغی نشوونما اور جذباتی توازن میں رکاوٹ بن سکتے ہیں، جبکہ والدین کی توجہ بٹنے سے بچے کے ساتھ ضروری جذباتی رابطہ کم ہو جاتا ہے۔

آج کے والدین اکثر اسکرین کا سہارا اس لیے لیتے ہیں کہ یہ وقتی سکون، خاموشی اور سہولت فراہم کرتی ہے۔ ردھی دوشی پٹیل، ماہرِ نفسیات اور پیرنٹنگ کانسلر کے مطابق زیادہ تر گھروں میں بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو ذمہ داریاں عورت پر مرکوز ہوتی ہیں، چاہے وہ ملازمت پیشہ ہی کیوں نہ ہو۔ مصروف زندگی اور مدد کی کمی میں اسکرین ایک فوری حل بن جاتی ہے، تاکہ والدین دیگر کام سنبھال سکیں یا اپنی تھکن کم کر سکیں۔

نیوکلیئر فیملی سسٹم نے بھی اس عادت کو بڑھایا ہے۔ جہاں پہلے دادا دادی یا نانا نانی بچوں کے وقت اور سرگرمیوں میں مدد کرتے تھے، اب وہ ماحول میسر ہی نہیں۔

بچوں کو موبائل کا عادی بنانے میں ہمارے گھر کے ماحول کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ کچھ فیمیلیز کی ذاتی زندگی اور تجربات سے بھی ان مسائل کے اثرات سمجھے جاسکتے ہیں، انڈیا ٹوڈے کے مطابق، دہلی کی گھریلو خاتون اسٹوتی بھاردواج بتاتی ہیں کہ جب ان کے ساس سسر ان کے ساتھ تھے تو بچے چہل قدمی، مندر جانا اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے، موبائل یا اسکرین کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی لیکن ان کے منتقل ہونے کے بعد بچوں کو اکیلے سنبھالنا مشکل ہو گیا اور اسکرین آہستہ آہستہ روزمرہ کا حصہ بن گئی۔

کچھ والدین کے لیے اسکرین جذباتی سہارا بھی بن جاتی ہے۔ احمد آباد کی رہائشی سرشٹی سنگھ بتاتی ہیں کہ ان کا بیٹا ایک سال کی عمر میں ڈینگی کا شکار ہوا، اور بیماری کے دوران ویڈیوز ہی وہ واحد چیز تھیں جو اسے سکون دیتی تھیں۔ بعد میں اسی طریقے سے بچے کی ضد اور بے چینی کم کرنے کی عادت پڑ گئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کے لیے والدین کے ساتھ براہِ راست بات چیت، کھیل اور گفتگو سب سے زیادہ اہم ہیں۔ نوئیڈا کے ڈاکٹر اروند گرگ کے مطابق مسلسل اسکرین دیکھنے سے بچوں کی نیند متاثر ہوتی ہے، جس سے جسمانی نشوونما اور بھوک سے جڑے ہارمونز بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کے دوران اسکرین کا استعمال بچوں کی صحت مند خوراک اور مستقبل کے رجحانات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

ماہرین یہ واضح کرتے ہیں کہ بچوں کو ہر وقت تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہیں مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور والدین کی مکمل توجہ چاہیے۔ روزمرہ کے کاموں میں بچوں کو شامل کرنا، جیسے کھانا پکانے میں مدد، باغبانی یا سادہ کھیل، ان کی زبان، توجہ اور جذباتی ربط کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگر اسکرین پہلے ہی روزمرہ کا حصہ بن چکی ہو تو بتدریج کمی کا طریقہ اپنانا بہتر ہے۔ ہر ہفتے کچھ وقت کم کر کے اس کی جگہ کھیل، بات چیت یا مشترکہ سرگرمیاں شامل کی جا سکتی ہیں۔ ماہرین ایک ”بورڈم کٹ“ بنانے کے لئے بھی مشورہ دیتے ہیں، جس میں رنگ، کاغذ، کھلونے، موسیقی کے آلات اور پہیلیاں شامل ہوں، تاکہ بچے بغیر اسکرین کے مصروف رہ سکیں۔

فلم اور شوبز کی دنیا میں بھی اس حوالے سے تشویش نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب میں اداکارہ کرینہ کپورنے بتایا، وہ کہتی ہیں کہ وہ اور ان کے شوہر سیف علی خان رات کے وقت اپنے بچوں کو سلاتے ہوئے ٹی وی یا موبائل کا استعمال نہیں کرتے، کیونکہ بچے والدین کے رویے کو دیکھ کر سیکھتے ہیں، اور والدین کا عملی رویہ بچوں کے لیے سب سے بڑا سبق ہوتا ہے۔

ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ جب اسکرین کو بچوں کے ساتھ جذباتی تعلق اور حقیقی وقت کا ’متبادل‘ بنایا جائے، تو یہ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور جذباتی صحت کے لیے ایک خاموش مگر بدترین اثرات لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ والدین کی توجہ، محبت اور مشترکہ وقت کبھی بھی کوئی اسکرین مکمل طور پر فراہم نہیں کر سکتی۔

parenting

Screen Time

child development

Children Safety

Early Learning

Modern Parenting

Toddler Care

Digital Parenting

Kids Mental Health