پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں مساجد پر بھارتی قبضے کے منصوبے کی مذمت
پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ عمل مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنے کی منظم کوشش ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی پروفائلنگ مذہبی امور میں کھلی مداخلت کے مترادف ہے جو کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی کوائف، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا منظم ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد عبادت گزاروں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں آزادانہ طور پر اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنا ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یہ اقدامات بھارتی حکومت کی ہندوتوا سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ مساجد اور مسلم علما کو نشانہ بنانا بھارتی حکومت کے امتیازی اور اسلاموفوبیا پر مبنی کردار کو بے نقاب کرتا ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو بغیر کسی خوف، جبر اور امتیاز کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق حاصل ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی جاری رکھے گا اور ان کے خلاف مذہبی جبر اور عدم برداشت کے تمام اقدامات کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ نے اپریل 2025 میں مساجد اور وقف املاک کے انتظام سے متعلق متنازع قانون پاس کیا تھا۔
اس قانون کے تحت ریاستی وقف بورڈز میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا اور حکومت کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ کسی بھی متنازع جائیداد کی ملکیت کا فیصلہ کر سکے۔
مسلم تنظیموں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تاریخی مساجد اور قبرستانوں کے سرکاری قبضے میں جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان پہلے بھی اس قانون کو بھارتی مسلمانوں کے معاشی اور مذہبی حقوق پر شبِ خون قرار دے چکا ہے۔














