گل پلازہ کی تیسری منزل پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، 14 افراد ہلاک، 45 لاپتہ

تیسرے فلور پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
اپ ڈیٹ 19 جنوری 2026 11:05am

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی تباہ کن آگ 37 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بجھائی نہ جا سکی۔ عمارت کی تیسری منزل پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی ہے۔ طویل ریسکیو آپریشن کے دوران رات بھر کوششیں جاری رہیں، جن میں مزید تین لاشیں نکالی گئیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی ہے جبکہ 30 افراد زخمی ہیں۔ آگ کی شدت اور عمارت کی پیچیدہ ساخت کے باعث ریسکیو عملہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے اب تک 14 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں جبکہ دیگر افراد مرد ہیں۔ واقعے کے بعد سے ریسکیو اور سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے اور ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کا عمل بھی اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔

ریسکیو حکام کے مطابق گزشتہ رات پلازہ کی تیسری منزل پر کسی شخص کے پھنسے ہونے کے امکان پر خصوصی آپریشن کیا گیا۔

ریسکیو اہلکاروں نے لوہے کی گرل کاٹ کر اور بلند آواز میں صدائیں دے کر اندر موجود افراد سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کوئی جواب موصول نہ ہو سکا۔

بعد ازاں فائرفائٹرز آگ سے دہکتی ہوئی عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور جلی ہوئی دکانوں میں محدود سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

ریسکیو ٹیموں نے تھرمل کیمرے بھی نصب کیے تاکہ دھوئیں اور ملبے کے درمیان انسانی موجودگی کا پتا لگایا جا سکے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سے رابطے میں رہتے ہوئے موبائل نمبرز حاصل کیے گئے ہیں، جن میں سے 20 سے زائد افراد کی آخری لوکیشن گل پلازہ کے اندر کی سامنے آئی ہے۔

حفاظتی خدشات کے پیش نظر عمارت کے سامنے جاری آپریشن عارضی طور پر روک کر پیچھے کی جانب سے ریسکیو کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

اسی دوران تیسرے فلور پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی، جس نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

اس سانحے میں انسانی المیوں کی کئی دل دہلا دینے والی کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تلاش میں گل پلازہ کے باہر زار و قطار روتی دکھائی دی، اس کا کہنا تھا کہ میرا بچہ اندر موجود ہے، کوئی اسے لے کر آ جائے۔

ایک اور متاثرہ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ رمضان آنے والا ہے، یہ دکان ہمارے والد کی آخری نشانی تھی، سب کچھ ختم ہو گیا۔

ان مناظر نے وہاں موجود ہر شخص کو غمزدہ کر دیا۔

ریسکیو کے دوران شہریوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔

ایک شہری نے اپنی جان پر کھیل کر نیم بے ہوش شخص کو سیڑھی کے ذریعے پہلی منزل سے نیچے اتارا۔

اسی طرح گل پلازہ میں پھنسے ایک شہری کا موبائل پر بھیجا گیا آڈیو پیغام بھی سامنے آیا، جس میں وہ بتا رہا تھا کہ چاروں طرف آگ ہے اور نکلنا بہت مشکل ہو چکا ہے، اور اگر اس سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو معاف کر دیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق ایک ہی خاندان کی چار خواتین سمیت چھ افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

گھر کی بزرگ خاتون نے بتایا کہ خاندان کے افراد شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ آئے تھے۔

ایک اور خاتون نے بتایا کہ اس کا بائیس سالہ کزن رات ساڑھے بارہ بجے فون پر مدد کی اپیل کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ یہاں بہت زیادہ آگ لگی ہوئی ہے۔

دوسری جانب لوگ گل پلازہ اور سول اسپتال کے باہر اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ اسپتال کے باہر آویزاں فہرست میں کسی کو نام ملا اور کسی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے انتظامیہ کو نام درج کروائے ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کیے گئے ہیں تاکہ شہری معلومات حاصل کر سکیں۔

سانحے پر اظہار یکجہتی کے طور پر تاجر برادری نے آج کراچی کی تمام الیکٹرانکس اور موبائل مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے اور مارکیٹوں میں قرآن خوانی اور دعا کا اہتمام کیا گیا ہے۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے رات گئے گل پلازہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں افراد کا لاپتہ ہونا ایک بڑا المیہ ہے اور عوام شدید جذبات میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، اصل ضرورت آگ لگنے کے اسباب جاننے کی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جب تک نقصان کا ازالہ نہیں ہوتا وہ متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ تاہم دورے کے دوران بعض شہریوں نے ان پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ چھوٹے تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میزنائن اور پارکنگ لاٹس میں دکانیں بنانا ایک سنگین مسئلہ ہے، آگ بجھانے کے انتظامات اور فائر ایگزٹس کی کمی بھی سامنے آئی ہے، اور مستقبل میں بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی آمد پر تاجروں نے تاخیر پر ناراضگی ظاہر کی اور سوال اٹھایا کہ 22 گھنٹے بعد کیوں آئے۔

گزشتہ روز سانحے میں جاں بحق ہونے والے تاجر کاشف اور فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ تاجر کاشف کی نماز جنازہ گارڈن غفوریہ مسجد میں جبکہ شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا ہوئی، جن میں وزرا، اپوزیشن رہنما، اہل خانہ اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے صورتحال دریافت کی اور ہدایت دی کہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشن کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

انہوں نے شہید فائر فائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی بھی سفارش کی اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا اور وفاق کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی، ساتھ ہی گنجان آباد علاقوں میں آگ پر بروقت قابو پانے کے لیے ایک مربوط اور مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

karachi

Murtaza Wahab

mayor karachi

Karachi Fire

Gul Plaza Fire

Karachi Fire Incidents

Gul Plaza

گُل پلازہ

گل پلازہ