گل پلازہ سے بلدیہ فیکٹری تک، کراچی میں خوفناک آتشزدگی کی تاریخ
کراچی شہر اپنی متحرک تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، مگر یہاں آتشزدگی کے کئی المناک واقعات نے نہ صرف انسانی جانیں لی ہیں بلکہ کاروبار اور صنعتی سرمایہ کاری کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ شہر کی تاریخ میں کئی بڑی اور مہلک آگ کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں انسانی اور مالی نقصان دونوں شامل رہا ہے۔
حال ہی میں میں گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی آگ سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس مال میں لگی آگ میں اب تک کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوئے، درجنوں زخمی ہوئے اور 1200 دکانیں جل گئیں۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 70 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے۔ یہ واقعہ کراچی کی تاریخ کی سب سے تباہ کن آتشزدگیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
سال 2024 اور 2025 کے دوران کورنگی اور مہران ٹاؤن میں کئی دکانوں میں آگ لگی، جن میں کچھ دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، تاہم جانی نقصان کی اطلاع محدود رہی۔
اسی طرح 25 نومبر 2023 کو آر جے شاپنگ مال کی چوتھی منزل پر بجلی کے شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہوئے۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اپریل 2023 میں نیو کراچی کی دو فیکٹریوں میں آگ لگنے سے چار فائر فائٹرز جاں بحق اور 13 دیگر زخمی ہوئے، دونوں عمارتیں ریسکیو کے دوران گر گئیں۔
گُلشنِ اقبال میں جون 2022 میں لگنے والی آگ نے سینکڑوں گاڑیاں، بشمول 500 سے زائد موٹرسائیکلیں اور کئی کاریں تباہ کر دیں۔
2021 میں مہران ٹاؤن کی صنعتی فیکٹری میں آگ لگنے سے 16 کارکن جاں بحق ہوئے، اور اسی سال صدارتی بازار کوآپریٹو مارکیٹ اور وکٹوریا سینٹر میں کئی دکانیں اور اسٹاک جل گیا، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔
اسی طرح دسمبر 2016 میں ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آگ لگنے سے 11 افراد ہلاک اور تقریباً 75 زخمی ہوئے۔ فائر الارم اور ایگزٹ کے ناقص انتظامات نے نقصان کو بڑھا دیا۔
صنعتی آتشزدگیوں میں سب سے مہلک واقعہ 11 ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاؤن میں علی انٹرپرائزز گارمنٹس فیکٹری میں پیش آیا، جہاں 289 مزدور آگ اور دھوئیں میں دم گھٹنے سے ہلاک ہو گئے۔ فیکٹری میں ایگزٹ کے دروازے بند اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے مزدور باہر نکل نہ سکے۔
23 جنوری 2008 کو سائٹ ایریا میں پینٹ فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے 7 افراد جھلس کر زخمی ہوئے۔
15 جنوری 2007 کو سائٹ ایریا میں ایک کپڑے کی فیکٹری میں آگ کے دوران ریسکیو کے 5 اہلکار بھی جل کر ہلاک ہو گئے۔
18 فروری 2007 کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی عمارت میں آگ لگی، جس پر 19 گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے بعد قابو پایا گیا، اور 11ویں سے 14ویں منزل تک ہر چیز راکھ بن گئی۔
اسی طرح شہر کے غیر رسمی رہائشی علاقوں میں بھی آگ لگنے کے متعدد واقعات میں درجنوں جھونپڑیاں جل گئیں، جس سے لوگ بے گھر ہوئے اور مالی نقصان ہوا۔
یہ تمام واقعات کراچی میں آگ سے بچاؤ کے نظام میں موجود خامیوں، بجلی کے شارٹ سرکٹ، غیر محفوظ صنعتی اور تجارتی عمارتوں، ناکافی ایگزٹ راستوں اور حفاظتی قوانین کے نفاذ میں ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہر آتشزدگی کے بعد حکام کی کوششیں جاری رہتی ہیں، لیکن یہ واقعات شہر میں آگ سے تحفظ کے حوالے سے اہم چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ تاریخ کراچی کے شہریوں، تاجروں اور مزدوروں کے لیے یاد دہانی ہے کہ آگ کی روک تھام اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں انسانی اور مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
چیف فائر آفیسر کے مطابق شہر میں آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے 43 فائر ٹینڈرز، 8 اسپرنکلرز، دو باوزر، دو ریسکیو یونٹس اور ایک فوم یونٹ موجود ہیں، جو تقریباً ساڑھے تین کروڑ آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ یہ اعداد و شمار شہر میں آگ کے خطرے کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔













