سردیوں میں کیل مہاسے زیادہ کیوں ہوتے ہیں؟

غیر مستند گھریلو نسخوں کا استعمال جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے.
شائع 24 جنوری 2026 01:27pm

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سردیوں کے موسم میں جلد کے مسائل، خاص طور پر چہرے پر کیل مہاسے اچانک کیوں بڑھ جاتے ہیں؟

ماہرینِ جلد کے مطابق سرد موسم میں خشک ہوا اور نمی کم ہونے کی وجہ سے جلد کا قدرتی توازن متاثر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں جلد پر دانے، سرخی اور کھردرا پن نمایاں ہونے لگتا ہے۔

سردیوں میں جلد کی سطح پر مردہ خلیات زیادہ جمع ہو جاتے ہیں اور جلد اپنی قدرتی چمک کھو دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس موسم میں جلد نہ صرف بے جان نظر آتی ہے بلکہ مسام بند ہونے کی وجہ سے کیل مہاسے بھی نمودار ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔


اس کے علاوہ، بعض افراد خشکی سے بچنے کے لیے بھاری اور چکنے موئسچرائزر استعمال کرتے ہیں، جو مسام بند کر کے مسئلے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

کیل مہاسے کوئی گندگی نہیں بلکہ جلد کا ایک قدرتی مسئلہ ہے جو مناسب دیکھ بھال، متوازن غذا اور درست اسکن کیئر روٹین سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

جلد کے ماہرین کے مطابق سردیوں میں کیل مہاسوں سے نمٹنے کے لیے اسکن کیئر روٹین کو سادہ مگر مؤثر رکھنا ضروری ہے۔

گھر میں ہیومیڈیفائر کا استعمال فضا میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے جلد خشک ہونے سے محفوظ رہتی ہے۔

ہلکے وزن کے ایسے موئسچرائزر کا انتخاب کریں جن میں ہائیالورونک ایسڈ اور نیاسینامائڈ شامل ہوں۔ یہ اجزاء جلد کو نمی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ چکنائی کو متوازن رکھتے ہیں۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ سردیوں میں سن اسکرین کا استعمال ترک نہ کیا جائے، کیونکہ سورج کی شعاعیں اس موسم میں بھی جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

کیل مہاسے دور کرنے کے لیے اہم اجزاء

ماہرین کے مطابق چند مؤثر اجزاء پر مشتمل مصنوعات کیل مہاسوں کے علاج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

سیلیسیلک ایسڈ: مساموں کو صاف کر کے مردہ خلیات ختم کرتا ہے۔

گلیکولک ایسڈ: جلد کی ساخت بہتر بناتا اور خلیوں کی تجدید میں مدد دیتا ہے۔

زنک: سوزش کم کرنے اور اضافی چکنائی کو کنٹرول کرنے میں مؤثرہے۔

نیاسینامائڈ: جلد کو سکون دیتا اور حفاظتی تہہ مضبوط کرتا ہے۔

یہ اجزاء جلد کے قدرتی تیل کو متاثر کیے بغیر دانوں کی شدت کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، تاہم ان کے ساتھ ہلکا موئسچرائزر استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ دانوں کو دبانا یا بار بار چھیڑنا سوزش اور مستقل داغوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی طرح ٹوتھ پیسٹ یا غیر مستند گھریلو نسخوں کا استعمال جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقل دیکھ بھال ہی صحت مند، صاف اور متوازن جلد کی کنجی ہے۔

اگر مسئلہ شدید ہو تو ماہرِ جلد سے رجوع کرنا بہترین حل ہے۔