چیونٹیاں خطرناک ریڈی ایشن میں بھی کیسے زندہ رہتی ہیں؟ حیرت انگیز انکشاف
چیونٹیاں بہت چھوٹے سائز کی ہوتی ہیں، لیکن سائنسدانوں کے مطابق یہ سخت اور مشکل حالات میں غیر معمولی برداشت رکھتی ہیں، حتیٰ کہ نیوکلیئر ریڈی ایشن جیسے انتہائی دباؤ والے ماحول میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جہاں انسان تابکاری کے باعث تھوڑی سی ریڈی ایشن سے بھی بیمار ہو سکتا ہے یا جان سے جا سکتا ہے، وہیں چیونٹیوں پر اس کے اثرات نسبتاً کم دیکھے گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں کے جسم کی بناوٹ بہت سادہ ہوتی ہے۔ ان کے جسم میں ایسے قدرتی نظام موجود ہوتے ہیں جو انہیں نقصان دہ حالات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، ایسے حالات جن میں انسان آسانی سے زندہ نہیں رہ سکتا۔
ماہرین کے مطابق ان کی سادہ جسمانی ساخت، تیز رفتار خلیاتی نظام اور ڈی این اے کی مرمت کی بہتر صلاحیت انہیں ریڈی ایشن کے اثرات سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔
یہ حیران کن حقیقت اس بات کی مثال ہے کہ قدرت نے جانداروں کو کس طرح سخت ترین ماحول سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت دی ہے۔
خاص طور پر کالی باغیچی چیونٹیوں جیسی اقسام تابکاری میں بھی کم نقصان کے ساتھ زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ انسانوں کو ایسے ماحول میں بقا کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اختیار کرنا پڑتے ہیں۔
چیونٹیاں ہی نہیں، بلکہ قدرت میں دیگر ننھے جاندار بھی انتہائی سخت حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مثال کے طور پر ٹارڈیگریڈز، جنہیں واٹر بیئرز بھی کہا جاتا ہے، خلا ، شدید تابکاری اور انتہائی درجہ حرارت میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح کچھ بیکٹیریا چرنوبل جیسے تابکار علاقوں میں بھی پائے گئے ہیں، جو قدرت کی حیران کن موافقت کی مثال ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق چیونٹیوں کا اجتماعی طرزِ زندگی ان کی بقا میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چیونٹیاں مل جل کر رہتی ہیں اور اگر کوئی چیونٹی بیمار ہو جائے تو اسے الگ کر دیا جاتا ہے، جس سے باقی کالونی محفوظ رہتی ہے۔ یہ منظم نظام انہیں ماحولیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں سے سیکھ کر مستقبل میں انسانوں کے لیے بہتر علاج اور ریڈی ایشن سے بچاؤ کے طریقے بنائے جا سکتے ہیں، خاص طور پر کینسر اور خلائی سفر کے شعبوں میں۔
اگرچہ انسان چیونٹیوں کی طرح تابکاری برداشت نہیں کر سکتے، لیکن ان کے بقا کے طریقوں سے مستقبل میں انسانی زندگی کو محفوظ بنانے میں مدد ضرور مل سکتی ہے۔
یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قدرت کے چھوٹے جاندار بھی بڑے راز اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں۔
















