لداخ کا آسمان سرخ ہو گیا، دنیا کے لیے وارننگ

اس شدید شمسی طوفان سے بجلی، سیٹلائٹس اور جی پی ایس اور بینکنگ سسٹم متاثر ہو سکتے ہیں۔
شائع 28 جنوری 2026 12:16pm

لداخ میں واقع گاؤں ہانلے کے آسمان پر عموماً گہرا نیلا رنگ چھایا رہتا ہے، جس میں دور دراز کہکشاؤں کی مدھم روشنی ہی دکھائی دیتی ہے۔ مگر 19 اور 20 جنوری کی راتوں میں یہ خاموشی ایک غیر معمولی خون رنگی روشنی سے چمک اٹھی۔

چین اور بھارت کے درمیان واقع متنازعہ علاقہ ’لداخ‘ کی یہ سرخ رنگ روشنیوں سے بھرے آسمان کی تصاویرسوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں جو دیکھنے والوں کو مسحور کر رہی ہیں، لیکن سائنس کے مطابق یہ مناظر صرف خوبصورتی کی علامت نہیں ہیں بلکہ اس کی کچھ اور حقیقت ہے۔

دراصل یہ سورج کی بڑھتی ہوئی غیر متوقع حرکت کی واضح نشانی ہیں۔ لداخ اور اس کے گردونواح میں دیکھی جانے والی سرخ ارورا ایک انتہائی شدید شمسی طوفان کا نتیجہ تھیں، جو 2003 کے بعد سب سے طاقتور تھا۔

18 جنوری کو سورج سے ایک ایکس فلیر پھوٹا، جس نے ایک بڑے بادل کو خلا میں بھیج دیا جسے کورونل ماس ایجیکشن کہا جاتا ہے۔ یہ بادل مقناطیسی فیلڈ اور سورج کی گیس پر مشتمل ہوتا ہے، جو انتہائی تیز رفتاری سے زمین کی جانب بڑھتا ہے۔ یہ پلازما بادل 1,700 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین تک پہنچا اور صرف 25 گھنٹوں میں ہماری فضا میں داخل ہو گیا۔

جب یہ ذرات زمین کے مقناطیسی میدان سے ٹکراتے ہیں تو ایک G4 سطح کا جیو میگنیٹک طوفان پیدا ہوتا ہے۔ زمین کے مقناطیسی میدان میں یہ بڑی ہلچل پیدا کرتا ہے اور اوپر کی جانب موجود آکسیجن کے ایٹموں کو تحریک دے کر سرخ روشنی پیدا کرتا ہے۔

شدید جیو میگنیٹک طوفان کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں رکاوٹ، سیٹلائٹس کے مدار میں تبدیلی، اور جی پی ایس اور بینکنگ نظام میں خلل آ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پر موجود خلا بازوں نے بھی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے پڑے۔

لداخ جیسے درمیانی عرض بلد علاقوں میں ہم اس روشنی کے اوپری حصے دیکھتے ہیں، جو قطبی علاقوں کی سبز روشنی کے بجائے سرخ نظر آتی ہے۔

اس حالیہ واقعے میں S4 شدت کا ایک شدید شمسی تابکاری طوفان ریکارڈ کیا گیا، جس میں سورج سے توانائی والے پروٹونز زمین کی جانب آئے۔ ناسا نے مشاہدہ کی کہ یہ طوفان زمین کے مقناطیسی ڈھال کو اتنا دباؤ دیتے ہیں کہ بعض اوقات سیٹلائٹس براہِ راست سورج کی شدید ہواؤں کے اثر میں آ جاتے ہیں۔

اگرچہ ان طوفانوں کی وجہ سے روشنیوں کے یہ مناظر دلکش نظر آتے ہیں، لیکن یہ سیٹلائٹ کمیونیکیشن، پاور گرڈ اور ڈیجیٹل نظاموں کے لیے خطرہ بھی ہیں۔

اس خطرے سے نمٹنے کے لیے زمین پر موجود انجینئرز جیو میگنیٹک کرنٹ سینسر لگا کر حقیقی وقت میں خطرات کی نگرانی کر رہے ہوتے ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی سیاحت کی وجہ سے روشنی کی آلودگی خطرہ بن سکتی ہے، جو آسمان کی حساس مشاہداتی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

یہ خون رنگی آسمان صرف ایک دلکش منظر نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی بھی ہے کہ ہمارا سورج جاگ رہا ہے اور اور ہماری الیکٹرانک دنیا غیر محفوظ ہے۔