زیادہ سوچنے کی عادت سے پریشان ہیں؟ فوری سکون کے طریقے آزمائیں
زندگی کے تیز رفتار دور میں اکثر لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں اور مسائل پر بھی ضرورت سے زیادہ سوچنے لگتے ہیں، جسے ماہرین اوورتھنکنگ (Overthinking) کہتے ہیں۔
یہ سوچ عموما ماضی کی غلطیوں، پچھتاوں یا مستقبل کی فکروں کے گرد گھومتی رہتی ہے اور جب ہمارا ذہن ایک ہی بات کو مسلسل سوچتا رہے تو اس کا نتیجہ ذہنی تھکن کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تو یہ نہ صرف توجہ اور یکسوئی متاثر کرتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہریں کے مطابق، مسئلہ حل کرنا اور زیادہ سوچنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اگر ہم مسائل پر سوچیں گے تو اس کا حل بھی نظر آجاتا ہے جو رکاوٹوں پر قابو پانے کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
حد سے زیادہ سوچنے سے سوائے اضطراب، خوف اور تناؤ کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہے اور انسان مشکلات کے جال میں پھنستا چلا جاتا ہے۔
آئیے اس سے بچنے کے صحیح طریقے جانتے ہیں۔
اپنے خیالات سے آگاہ رہیں
بعض اوقات ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ پم کسے معاملے پر بہت زیادہ سوچ رہے ہیں حالاکہ اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔
زیادہ سوچنے سے روکنے کا پہلا اور سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ جب آپ بار بار کسی مسئلے پر فکرمند ہوں تو سب سے پہلے آگاہ ہوجائیں کہ آپ زیادہ اور بلاضرورت سوچ رہے ہیں۔ اس کے بعد خود کو روکنے کی کوشش کریں ۔ آگاہی ہی پہلا قدم ہے، جو آپ کو خیالات پر قابو پانے میں مدد دیتی ہے۔
”5 منٹ کا اصول“ آزمائیں
اگر آپ کا دماغ کسی مسئلے میں الجھ جائے تو اسے وہاں سے نکلنے لیے ایک وقت دیں۔ خود سے کہیں، ”میں صرف اگلے 5 منٹ تک اس پر سوچوں گا“۔
اس دوران پریشانیوں پر غور کریں اور جیسے ہی 5 منٹ پورے ہوجائیں خود کو کسی اور سرگرمی میں مشغول کرد یں۔
حال میں جینا سیکھیں
زیادہ سوچنے کا حال کو چھوڑ کر ماضی یا مستقبل کی فکر سے گہرا تعلق ہے۔
حال میں جینے کی عادت ڈالیں۔ گہرے سانس لینے کی مشقیں یا مراقبہ کریں۔ موجودہ ماحول کی آوازوں اور لمس پر توجہ دیں تاکہ ذہن سے غیر ضروری خیالات کو دور کیا جا سکے۔
نوٹ کریں
اکثر خیالات کا ہم پر غالب ہونے کی بنیادی وجہ ان کا منظم نہ ہونا ہے۔ اپنے ذہن میں موجود تمام خیالات کو ایک کاغذ پرنوٹ کرتے جائیں۔ اس طرح آپ کا ذہن ان کے بارے میں سوچنا بند کردیتا ہے۔ یہ سکون محسوس کرنے اور خود شناسی کا بہترین طریقہ ہے۔
پرفیکشن کا خیال ترک کردیں
دنیا میں کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوسکتا۔ انسان غلطیاں کرسکتا ہے جسے مکمل طور پر کنٹرول کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ پرفیکشن کی بجائے آگے بڑھنے پر توجہ دیں۔
فزیکل سرگرمیوں میں مشغول رہیں
مشہور کہاوت ہے ’خالی دماغ شیطان کا کارخانہ ہوتا ہے۔‘ اس لیے خود کو مصروف رکھیں۔ ورزش، رقص، پینٹنگ یا کوئی بھی مشغلہ جو پسند ہو، دماغ کو مصروف رکھتا ہے اورآپ اسے انجوئے کرنے کے ساتھ فضول اور بے جا سوچوں سے دور رہ سکتے ہیں۔
مسئلہ نہیں، حل پر فوکس کریں
”what ifs“ کے چکر میں نہ پھنسیں۔ مسئلہ کے بجائے اس کے حل کے بارے میں سوچیں۔ اس طرح رفتہ رفتہ آپ کی سوچ کا دائرہ تبدیل ہو جائے گا۔
یہ آسان ٹرکس دماغ کو منظم رکھنے اور حد سے زیادہ سوچ سے بچنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے ذہنی سکون اور توجہ میں بہتری آتی ہے۔
















