وزیراعظم کا صنعتوں کے لیے بجلی سستی کرنے کا اعلان

دل چاہتا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں 10 روپے فی یونٹ کمی کردوں، تاہم موجودہ حالات میں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، وزیراعظم
شائع 30 جنوری 2026 01:27pm

وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتی اور برآمدی شعبے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس میں نرمی اور برآمدکنندگان کے لیے خصوصی سہولیات کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت معاشی استحکام اور برآمدات کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے نامور ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب میں صنعتوں کے لیے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کا دل چاہتا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں 10 روپے فی یونٹ کمی کریں، تاہم موجودہ حالات میں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے صنعتی صارفین کے لیے ویلنگ چارجز میں بھی 9 روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اقدام سے صنعتوں کی پیداواری لاگت میں واضح کمی آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ برآمدکنندگان کے لیے ٹیکس کی شرح ساڑھے 7 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد پر لائی جا رہی ہے، جس سے ایکسپورٹ سیکٹر کو ریلیف ملے گا اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایوارڈ حاصل کرنے والے برآمدکنندگان اور نمایاں کاروباری شخصیات کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دینے کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستانی تاجروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ تاجر برادری سے مشاورت کے بعد معاشی پالیسی بنائی جائے گی تاکہ کاروباری طبقے کا معیشت میں کردار بڑھتا رہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری شخصیات نے شبانہ روز محنت کرکے پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور مشکل حالات میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت کے باہمی تعاون سے ملک میں ترقی کے راستے کھل رہے ہیں اور معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک کی مالی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جا رہی تھیں، مگر حکومت کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2023 میں پیرس سمٹ میں آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے ملاقات ہوئی، اور سخت شرائط کے باوجود پروگرام کی منظوری ملی، جس سے معیشت مستحکم ہو گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں ہے اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر ساڑھے 10 فیصد تک آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر پہلے سے دوگنے ہو چکے ہیں اور مزید اصلاحات کے لیے صنعتکاروں، وزیر خزانہ اور دیگر مشیروں کے مشورے پر عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے ملک کی بیرونی ساکھ پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کی فتح نے دنیا بھر میں پاکستان کا مقام مستحکم کیا ہے اور عالمی دوروں میں پاکستان کے لیے رویے بدلتے دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کسی ملک میں جاتے ہیں تو پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی ممالک نے پاکستان کی حمایت کی اور سری لنکا نے بھی کہا کہ پاکستان کو بچانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے بہترین نتائج دے رہے ہیں اور معیشت کے مستحکم ہونے کے باوجود ترقی کی راہ پر مزید کام کرنا ضروری ہے۔

وزیراعظم نے مزید بتایا کہ حکومت معاشی اصلاحات، شفافیت، نجکاری، ٹیکس میں کمی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے، اور اسمگلنگ اور کرپشن کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی آئی اے اور یوٹیلیٹی اسٹورز میں اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی سہولت اور عزت نفس کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

آخر میں وزیراعظم نے کہا کہ قوم کا صبر اور محنت مستقبل میں ملک کے لیے کامیابی کا سبب بنے گا، اور حکومت مشکل فیصلوں کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے۔