ایلون مسک خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹر کیوں بنانا چاہتے ہیں؟
دنیا کے امیر ترین بزنس مین اور ٹیکنالوجی وژنری ایلون مسک مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں ایک اور انقلابی قدم اٹھانے کو تیارہیں۔
زمین پر اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہی توانائی اور انفرااسٹرکچر کے مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ ایسے میں ایلون مسک ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اور قدم آگے بڑھتے ہوئے اب خلا میں اے ائی ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبے پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں، جسے وہ مستقبل میں زمین کے مقابلے میں زیادہ سستا اور مؤثر حل قرار دیتے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور ان کی اے آئی فرم ایکس اے ائی کے ممکنہ انضمام سے اس منصوبے کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔
اس انضمام کا مقصد خلا میں ایسے سیٹلائٹ نیٹ ورکس بنانا ہے جو مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈلز، جیسے اے ائی ایکس کا گروک اور دیگر چیٹ بوٹس چلانے کے قابل ہوں۔
خلا میں قائم ڈیٹا سینٹرز کا تصور ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سینٹرز سینکڑوں شمسی توانائی سے چلنے والے سیٹلائٹس پر مشتمل ہوں گے، جو ایک دوسرے سے منسلک ہو کر بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ انجام دیں گے۔
ماہرین کے مطابق ان سیٹلائٹس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے ان سسٹمز کو کمپیوٹنگ پاور فراہم کرنا ہے جن کے لیے زمین پر موجود ڈیٹا سینٹرز بہت زیادہ بجلی اور مہنگے کولنگ سسٹمز کے محتاج ہوتے جا رہے ہیں۔
خلا میں موجود ڈیٹا سینٹرز کو تقریباً مسلسل سورج کی روشنی میسر آتی ہے، جس سے توانائی کا مسئلہ کم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ خلا میں قدرتی طور پر درجہ حرارت کم رکھنے کی سہولت موجود ہوتی ہے، جس سے زمین پر ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہونے والے مہنگے کولنگ سسٹمز کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے۔
تاہم، خلائی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی کو کاروباری پیمانے پر قابلِ عمل بنانے میں ابھی کئی سال کا عوصہ لگ سکتا ہے۔
خلائی ملبہ، کاسمک ریڈی ایشن، مرمت کی مشکلات اور راکٹ لانچ کے بھاری اخراجات اس منصوبے کے بڑے چیلنجز ہیں۔
جرمن بینک کے اندازے کے مطابق 2027 یا 2028 میں ابتدائی تجرباتی ڈیٹا سینٹرز خلا میں بھیجے جا سکتے ہیں، جبکہ بڑے نیٹ ورکس شاید 2030 کے بعد سامنے آئیں گے۔
اسپیس ایکس اس وقت دنیا کی سب سے کامیاب راکٹ اور سیٹلائٹ لانچ کرنے والی کمپنی ہے اور پہلے ہی اسٹار لنک کے ذریعے ہزاروں سیٹلائٹس خلا میں بھیج چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر مستقبل میں اے آئی کمپیوٹنگ خلا کی طرف منتقل ہوتی ہے تو اسپیس ایکس اس میدان میں سب سے مضبوط پوزیشن میں ہے۔
حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران ایلون مسک نے کہا، ’شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز خلا میں بنانا ایک واضح فیصلہ ہے۔ دو سے تین سال میں اے آئی کے لیے سب سے کم لاگت والی جگہ خلا ہو گی۔‘
رائٹرزکے مطابق اسپیس ایکس اس سال ابتدائی عوامی پیشکش ( آئی پی او) پر بھی غور کر رہا ہے، جس کے بعد کمپنی کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رقم کا ایک حصہ خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تیاری پر خرچ کیا جائے گا۔
ایلون مسک اس میدان میں اکیلے نہیں۔ جیف بیزوس کی کمپنی بلوآریگن بھی خلا میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے۔
بیزوس کا ماننا ہے کہ مستقبل میں مدار میں موجود گیگا واٹ سطح کے ڈیٹا سینٹرز زمین کے مقابلے میں زیادہ ستے اور مؤثرہوں گے۔
اسی طرح این ویڈیا کے تعاون سے اسٹار کلاوڈ نامی منصوبہ بھی سامنے آ چکا ہے، جس کا پہلا سیٹلائٹ حال ہی میں خلا میں بھیجا گیا ہے۔
اس سیٹلائٹ میں دنیا کا طاقتور ترین اے آئی چِپ این ویڈیا ایچ 100 نصب ہے، جو گوگل کے اوپن سورس اے آئی ماڈل پر تجربات کر رہا ہے۔
گوگل بھی اس دوڑ میں شامل ہے اور اپنے منصوبے سن کیچر کے پروجیکٹ کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے اے آئی سیٹلائٹس کو نیٹ ورک کی شکل دینے پر کام کر رہا ہے، جس کا ابتدائی تجربہ 2027 میں متوقع ہے۔
دوسری جانب چین نے بھی اگلے پانچ سال میں اسپیس کلاؤڈ بنانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت خلا میں بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات نے دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کو خلا کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ منصوبے ابھی تجرباتی مرحلے میں ہیں، مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والی دہائی میں خلا اے آئی انفراسٹرکچر کا نیا میدانِ جنگ بن سکتا ہے۔
















