حملے کی خفیہ اطلاعات موجود تھیں،145 دہشت گرد مارے: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان

گوادر میں دہشتگردوں نے پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کیا
شائع 02 فروری 2026 09:00am

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہمارے پاس دہشتگرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، ہم نے ایک دن پہلے آپریشن شروع کردیا تھا، سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرتے ہوئے صرف 40 گھنٹوں کے دوران دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ 145 دہشتگردوں کی لاشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔

کوئٹہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے، جس سے مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

ان کا کہنا تھا دہشت گردوں نے 31 معصوم شہریوں کو شہید کیا، گوادر میں دہشتگردوں نے 5 خواتین اور3 بچوں کو شہید کیا، شہید ہونے والی فیملی کا تعلق خضدار سے تھا اور وہ بلوچ تھے، یہ خود کو بلوچ کہتے ہیں لیکن یہ بلوچ نہیں دہشت گرد ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ قوم کو دہشت گردی کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور بلوچ خواتین کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کی یہ جنگ کسی قوم یا شناخت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہماری جنگ بھارتی پراکسی کے ساتھ ہے، جس کا مقصد بلوچستان اور پاکستان میں بدامنی پھیلانا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ نے مزید انکشاف کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں، جن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری طرح الرٹ ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔