کراچی کی صدر موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا

عمارت میں آتشزدگی سے کئی گاڑیاں جل گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
اپ ڈیٹ 02 فروری 2026 08:59pm

کراچی کے علاقے صدر میں واقع موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا ہے، عمارت میں آتشزدگی سے کئی گاڑیاں جل گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

پیر کو کراچی کے مین مرکز صدر میں گل پلازہ کے قریب واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، آگ النجیبی موبائل مارکیٹ کی ساتویں منزل کی پارکنگ میں لگی۔

آگ لگنے کی فوری اطلاع ملتے ہی اور آگ کی شدت زیادہ ہونے کی وجہ سے مزید فائربریگیڈ طلب کی گئیں جب کہ آگ لگنے کے باعث دکانداروں سے دکانیں بند کرنا شروع کردیں۔

فائر بریگیڈ کی 3 گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا، عمارت میں آتشزدگی سے کئی گاڑیاں جل گئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ ساتویں منزل پر لوگ پھنسے ہوئے ہیں، آتشزدگی کے دوران 2 افراد کو ریسکیو کرلیا، دم گھٹنے کے باعث دونوں افراد کی حالت خراب ہوئی تاہم موقع پر موجود ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کی جانب سے انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، عمارت میں موجود 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، بروقت اگ بجھانے کا عمل شروع کیا گیا تھا، بروقت اطلاع سے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے بتایا کہ کراچی موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا، فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں نے بروقت کارروائی کی، الحمداللہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا رہا ہے، متاثرہ دکانداروں کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا، شہری انتظامیہ صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدر میں واقع موبائل مارکیٹ میں آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے رپورٹ طلب کرلی جب کہ انہوں نے متاثرہ عمارتوں میں فوری ریسکیو اور امدادی کارروائی کی ہدایت کردی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ آتشزدگی کے اسباب اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے گا، شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے بھی صدر میں واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں آتشزدگی کے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس پی ٹریفک ساؤتھ کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کا حکم دے دیا۔

آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ متاثرہ عمارت اوراطراف کے علاقوں کو محفوظ بنایا جائے، فائربریگیڈ، ایمبولینس اور ریسکیورعملے کے لیے راستہ کلیئر کیا جائے۔

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھی صدر کے ٹاور میں آتشزدگی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے فائر بریگیڈ کو فوراً موقعِ واردات پر پہنچنے اور ہائیڈرینٹس پر ایمرجنسی نافذ کرنے کی ہدایت کردی۔

میئر کراچی نے کہا کہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے اور ریسکیو آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔ بلدیہ عظمیٰ کے افسران اور تمام ریسکیو ٹیمیں اسٹینڈ بائی رہیں، کوشش کی جا رہی ہے کہ آگ پر جلد از جلد قابو پا لیا جائے اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی نے کہا کہ صدر کے ٹاور میں آگ لگنے کے واقعے پر شدید تشویش ہے، ریسکیو اور فائر بریگیڈ ادارے فوری طور پر حالات پر قابو پائیں، عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونا چاہیے، دعا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہو اور آگ پر جلد قابو پا لیا جائے۔