لاہور میں بسنت کا آخری روز، تقریبات کے وقت میں صبح 5 بجے تک توسیع

نواز شریف سمیت مقامی اور غیر ملکی مہمانوں کی بسنت کے جشن میں بھرپور شرکت
اپ ڈیٹ 08 فروری 2026 04:36pm

لاہور میں بسنت میلے کا تیسرا اور آخری روز بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اندرون شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھری ہوئی ہیں اور غیر ملکی مہمانوں کی بڑی تعداد بھی اس تہوار میں شریک ہے۔ غیر ملکی سیاح پاکستانی شہریوں کے ساتھ پتنگ بازی کرتے نظر آئے اور بسنت کے روایتی رنگوں میں رنگ گئے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کی تقریبات کے وقت میں توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بسنت کی تقریبات کا وقت کل صبح 5 بجے تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ توسیع لاہور کے عوام کے لیے انعام ہے جنہوں نے بسنت کو بھرپور نظم و ضبط کے ساتھ منایا اور تمام حفاظتی ایس او پیز کی ذمہ داری سے پابندی کی۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے عوام کو بسنت کا جشن محفوظ انداز میں جاری رکھنے اور دی گئی تمام ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خصوصی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے بسنت کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس کے دوران سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کی دو روزہ رپورٹ پیش کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو دی گئی بریفنگ کے مطابق تین روز کے دوران لاہور میں نو لاکھ سے زائد گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی جبکہ سرکاری بسوں پر صرف دو روز میں تقریباً 14 لاکھ مسافروں نے سفر کیا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے بسنت کے انتظامات، ٹریفک کنٹرول اور سکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور شہریوں کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آج بسنت کا آخری روز ہے اور تین روزہ بسنت فیسٹیول کے اختتام کے بعد پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی۔ وزیراعلیٰ نے شہریوں سے اپیل کی کہ آخری روز بھی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

بسنت کے موقع پر سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی بھی پتنگ بازی میں سرگرم دکھائی دیے اور انہوں نے خود گڈی اڑا کر تہوار سے لطف اٹھایا۔

خواتین کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ کئی خواتین نے خود پتنگیں اڑائیں جبکہ دیگر نے ہاتھوں پر مہندی سجائی، رنگین لباس زیب تن کیے اور گھروں میں خصوصی پکوان تیار کیے۔

بسنت کے جشن کے ساتھ روایتی کھانوں اور مٹھائیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔

ادھر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی بسنت منانے کے لیے اندرون لاہور پہنچے۔

انہوں نے قریبی دوستوں کے ہمراہ مستی گیٹ کے قریب سلطان ٹیپو بلڈنگ میں بسنت منائی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف لاہوری ثقافت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ بچپن اور لڑکپن میں اندرون شہر میں خاصا وقت گزار چکے ہیں۔

نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے کوشاں تھے اور اس سلسلے میں پنجاب کے کلچر سے وابستہ افراد سے متعدد ملاقاتیں بھی کر چکے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مؤقف ہے کہ بسنت جیسے تہوار سے پنجاب کی ثقافت اجاگر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ اس موقع پر سیاحت، کھانوں، کپڑوں اور دیگر کاروباروں کو فروغ ملتا ہے۔