لاہور میں بسنت کا آخری روز، نواز شریف سمیت مقامی و غیر ملکی مہمانوں کی بھرپور شرکت
لاہور میں بسنت میلے کا تیسرا اور آخری روز بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اندرون شہر کی چھتیں رنگ برنگی پتنگوں سے بھری ہوئی ہیں اور غیر ملکی مہمانوں کی بڑی تعداد بھی اس تہوار میں شریک ہے۔ غیر ملکی سیاح پاکستانی شہریوں کے ساتھ پتنگ بازی کرتے نظر آئے اور بسنت کے روایتی رنگوں میں رنگ گئے۔ اس موقع پر وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے غیر ملکی مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بسنت کو ثقافتی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال قرار دیا۔
بسنت کے موقع پر سیکرٹری اطلاعات طاہر رضا ہمدانی بھی پتنگ بازی میں سرگرم دکھائی دیے اور انہوں نے خود گڈی اڑا کر تہوار سے لطف اٹھایا۔
خواتین کی شرکت بھی نمایاں رہی۔ کئی خواتین نے خود پتنگیں اڑائیں جبکہ دیگر نے ہاتھوں پر مہندی سجائی، رنگین لباس زیب تن کیے اور گھروں میں خصوصی پکوان تیار کیے۔
بسنت کے جشن کے ساتھ روایتی کھانوں اور مٹھائیوں کا اہتمام بھی کیا گیا۔
ادھر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف بھی بسنت منانے کے لیے اندرون لاہور پہنچے۔
انہوں نے قریبی دوستوں کے ہمراہ مستی گیٹ کے قریب سلطان ٹیپو بلڈنگ میں بسنت منائی۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف لاہوری ثقافت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ بچپن اور لڑکپن میں اندرون شہر میں خاصا وقت گزار چکے ہیں۔
نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے محفوظ بسنت کے انعقاد کے لیے کوشاں تھے اور اس سلسلے میں پنجاب کے کلچر سے وابستہ افراد سے متعدد ملاقاتیں بھی کر چکے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مؤقف ہے کہ بسنت جیسے تہوار سے پنجاب کی ثقافت اجاگر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ اس موقع پر سیاحت، کھانوں، کپڑوں اور دیگر کاروباروں کو فروغ ملتا ہے۔















