موسمیاتی تبدیلی کھیلوں کی 2.3 کھرب ڈالر کی عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن گئی

نوجوانوں میں فٹنس پر توجہ دینے کا رجحان تیزی ختم ہورہا ہے: معروف عالمی جریدے کی رپورٹ
شائع 10 فروری 2026 03:29pm

سال 2026 دنیا اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ رواں سال عالمی کھیلوں کی معیشت ایک بڑے انقلاب سے گزر رہی ہے۔ اس ایک سال میں دنیا کھیلوں کے کئی بڑے عالمی مقابلے منعقد ہوں گے، جس میں فٹبال، کرکٹ اور اولمپکس شامل ہیں۔ تاہم ماہرین نے چند ایسے خدشات پر تشویش ظاہر کی ہے جو مستقبل میں اس عالمی صنعت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

مشہور عالمی جریدے کی ویب سائٹ ٹائم ڈاٹ کام کے مضمون میں ورلڈ اکنامک فورم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت کھیلوں کی عالمی معیشت 2.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے جو 2050 تک بڑھ کر 8.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کے لیے صحت مند افراد، محفوظ ماحول اور مضبوط کمیونٹیز کا قیام لازمی ہے، جو اس وقت دباؤ کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں خصوصاً نوجوانوں میں فٹنس پر توجہ دینے کا رجحان تیزی ختم ہورہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2030 تک جسمانی غیرفعالیت صحت کے نظام پر 300 ارب ڈالر سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے، ایسے وقت میں جب کئی ممالک پہلے ہی قرضوں اور مختلف امراض کا شکار ہیں۔

دوسری جانب شدید گرمی، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت بھی کھیلوں کے مقابلوں کو متاثر کر رہی ہے اور عام لوگوں کے لیے کھیلوں میں حصہ لینا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے تجزیے کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی یہی صورت حال برقرار رہی تو 2040 تک صرف 10 ممالک ہی ’وِنٹر اولمپکس‘ کی میزبانی کے قابل رہ جائیں گے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان مسائل کو حل نہ کیا گیا تو 2050 تک عالمی کھیلوں کی آمدن میں سالانہ 1.6 ٹریلین ڈالر تک کمی ہو سکتی ہے۔ اس پس منظر میں سوال یہ ہے کہ کیا کھیل وہ بنیادیں مضبوط کر سکتے ہیں جن پر ان کی اپنی ترقی کا دارومدار ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کا کہنا ہے کہ کھیل محض عالمی خطرات سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ وہ خود ان خطرات کو کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ماہرین نے اس حوالے سے تین اقدامات تجویز کیے ہیں۔ جس میں وسائل کے محتاط استعمال، شہروں میں عوامی مقامات کو کھیل اور نقل و حرکت کے لیے موزوں بنانا اور ایسی سرمایہ کاری کو فروغ دینا شامل ہے جو سماجی اور ماحولیاتی فائدے کے ساتھ منافع بخش بھی ہو۔

رپورٹ کے مطابق صرف مارکیٹ یا حکومتیں اکیلے اس تبدیلی کو ممکن نہیں بنا سکتیں۔ کھیل ایک ایسا ثقافتی اور معاشی ذریعہ ہیں جو حکومتوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون سے مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطباق کہ اگر ماحول اور معاشرے کا خیال رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی جائے تو اس سے نہ صرف کھیل کا شعبہ بہتر ہوگا بلکہ سرمایہ کاروں کو بہترین مالی منافع بھی ملے گا۔

کھیلوں کی عالمی صنعت کی ترقی کے دو ہی راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ یا تو پرانے طریقے ہی جاری رکھے جائیں جہاں مقصد صرف زیادہ سے زیادہ فوائد سمیٹنا ہوتا ہے، چاہے اس سے ماحول یا معاشرے کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچے۔

دوسرا یہ کہ وہ پالیسیاں اختیار کی جائیں کہ جس سے کھیل کی بقا کے ساتھ ساتھ میدان سے باہر لوگوں کی زندگیوں اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات شامل ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں دنیا کھیلوں کے عالمی مقابلے ہوتے دیکھی گی وہیں یہ بھی دیکھے گی کہ کھیلوں کے یہ مقابلے خاموشی سے عالمی تبدیلی کے زیرِاثر آجائیں گے یا اس صنعت کی تشکیلِ نو میں فعال کردار بھی ادا کریں گے۔