بھارت کی ’نو ہینڈ شیک‘ پالیسی برقرار، سوریا کمار پاکستانی کپتان سے دور دور رہے
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں کولمبو میں آمنے سامنے ہیں۔ میچ سے قبل ٹاس کے موقع پر آج بھی دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے درمیان مصافحہ نہیں ہوا۔
کولمبو میں جاری میچ سے قبل ٹاس کے موقع پر بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو اور پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کے درمیان حسبِ توقع روایتی مصافحہ نہیں ہوا۔
دونوں کپتان ٹاس کے لیے میدان میں آئے تو ایک دوسرے کو روایتی انداز میں خوش آمدید بھی نہیں کہا گیا۔
پاکستان نے ٹاس جیتا تو بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے فاصلہ اختیار کیا اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے۔ جس کے بعد سلمان علی آغا نے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا، پھر بھارتی کپتان نے گفتگو کی اور دونوں ایک دوسرے کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
اس سے قبل بھارتی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے بتایا تھا کہ بھارتی ٹیم میچ کے دوران مصافحے کی روایت کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسی برقرار رکھے گی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سوریا کمار یادیو ایشیا کپ کے تینوں میچز کی طرح آج بھی ’نو ہینڈ شیک‘ کی پالیسی قائم رہیں گے۔
گزشتہ روز بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو سے جب پاکستان کے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’24 گھنٹے انتظار کریں، اچھی خوراک لیں، اچھی نیند کریں، کل دیکھ لیں گے‘۔
اُدھر سابق بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے ہینڈ شیک نہ کرنے کی روایت پر شدید تنقید کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہاتھ نہ ملانا احمقانہ حرکت ہے، یہ روایت بھارتی ٹیم نے ہی شروع کی تھی۔
سنجے منجریکر کا کہنا تھا کہ کھیل کو کھیل کے جذبے کے تحت کھیلنا چاہئے ورنہ نہیں کھیلنا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ مئی میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے بعد سے تعلقات معمول پر نہیں آسکے اور کرکٹ کے میدان میں بھی یہ تناؤ برقرار ہے۔
اس سے قبل بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں شامل کیے جانے پر بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا تاہم آئی سی سی اور دوست ممالک کی درخواست پر پاکستان نے یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔
گزشتہ سال ایشیا کپ کے دوران بھی دونوں ٹیموں کے درمیان مصافحہ نہ کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔
جس کے بعد ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ٹرافی وصول نہیں کی تھی۔ بھارتی ٹیم تاحال ایشیا کپ ٹرافی کی منتظر ہے۔















