غزہ کے لیے نئی پولیس فورس، ابتدائی گھنٹوں میں 2 ہزار درخواستیں موصول
غزہ کے لیے قائم کی جانے والی عبوری فلسطینی پولیس فورس میں ابتدائی چند گھنٹوں میں 2,000 افراد نے شمولیت کی درخواست دی ہے، جب کہ پانچ ممالک نے بین الاقوامی سیکیورٹی فورس میں فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں رائٹرز کے مطابق بورڈ آف پیس کے ایک سینئر عہدیدار نکولے ملادنوف نے بتایا کہ فلسطینی عوام نے غزہ میں نئی عبوری پولیس فورس کے لیے بھرتی کے عمل میں بڑی دلچسپی دکھائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے فلسطینی پولیس فورس کی بھرتی کا عمل شروع کیا اور صرف چند گھنٹوں میں 2,000 افراد نے شامل ہونے کی درخواست دے دی ہے۔
بورڈ آف پیس کے اجلاس میں آرمی میجر جنرل جیسپر جیفریز، جو اقوام متحدہ کی منظوری یافتہ کثیر القومی امن فورس (آئی ایس ایف) کے کمانڈر ہیں، نے بتایا کہ فورس کا طویل مدتی منصوبہ غزہ کے لیے 12,000 پولیس افسران کی تربیت کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی سیکیورٹی فورس میں اب تک پانچ ممالک نے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ شامل ہیں۔ دو ممالک، مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
جیسپر جیفریز کے مطابق آئی ایس ایف اپنی تعیناتی کا آغاز جنوبی غزہ کے رفح علاقے سے کرے گی، جہاں پولیس کی تربیت شروع کی جائے گی اور پھر مرحلہ وار دیگر علاقوں تک دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
طویل مدتی منصوبے کے مطابق 20,000 آئی ایس ایف فوجیوں کی خدمات لی جائیں گی اور 12,000 پولیس افسران کو تربیت دی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد غزہ میں امن و استحکام قائم کرنا اور خطے میں سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہے، جب کہ فلسطینی عوام کو مقامی سطح پر امن قائم کرنے میں بااختیار بنانا ہے۔














