امریکا میں برفانی طوفان نے تباہی مچا دی، 5 کروڑ سے زائد افراد کے لیے الرٹ جاری
امریکا کے شمال مشرقی علاقے شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں آگئے ہیں، جہاں پانچ کروڑ چالیس لاکھ سے زائد افراد کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، جبکہ چھ ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست نیویارک، نیوجرسی، ڈیلاویئر، روہڈ آئی لینڈ، کنیکٹیکٹ اور میساچیوسٹس میں ایمرجنسی لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے اور شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ پندرہ ہزار سے زائد پروازیں معطل جبکہ ساڑھے تین ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس کے باعث نیویارک، بوسٹن اور اٹلانٹا ایئرپورٹس پر ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں۔
دارالحکومت واشنگٹن بھی شدید برفباری کے باعث سفید چادر اوڑھ چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور کیپٹل ہل کے اطراف تیز ترین برفباری ریکارڈ کی گئی، جس سے سرکاری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
ریاست نیویارک میں سفری پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ اسکولز بند رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے کہا ہے کہ شہر میں ایسا شدید برفانی طوفان گزشتہ دس برسوں میں نہیں آیا۔ ان کے مطابق نیویارک کے بعض علاقوں میں 28 انچ تک برفباری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب نیوجرسی میں 30 سال بعد پہلی بار تمام اکیس کاؤنٹیز میں برفانی طوفان کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ساحلی علاقوں میں چار فٹ تک سمندری طغیانی کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر ریسکیو اور ہنگامی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کے باعث نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔












