ہتھیار نہ ڈالے تو موت کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ کی پاسدارانِ انقلاب کو دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی فورسز کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے انہوں نے پاسدارانِ انقلاب کو ہتھیار ڈالنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ بصورتِ دیگر انہیں موت کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم ساتھ ہی ایران کی نئی قیادت کو مذاکرات کی پیشکش بھی کر دی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے اور ایران میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی رجیم کو کسی صورت ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے اور مقاصد حاصل ہونے تک کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس دوران مزید امریکیوں کی ہلاکتوں کا امکان موجود ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات، ایرانی فضائی دفاعی نظام، نو بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کی ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے، لیکن اس کی ملٹری کمان اب ختم ہو چکی ہے اور بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے پاسدارانِ انقلاب کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے تو انہیں موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہوگی اور ایرانی عوام کو چاہیے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا ملک واپس لیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، قطر اور اردن کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران امریکا سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم ایرانی مؤقف کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت نے صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے اور تہران پر بمباری سے ایران کی جنگی صلاحیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خطے میں استحکام کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔












