امریکیوں کو مشرقِ وسطیٰ کے 15 ممالک فوری چھوڑنے کا حکم
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تصادم کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے پندرہ ممالک میں موجود اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ان ممالک میں مقیم تمام امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیکیورٹی کے سنگین خطرات کے باعث دستیاب کمرشل پروازوں کے ذریعے فوری طور پر ان علاقوں سے نکل جائیں۔
جن ممالک کے لیے یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے ان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین، عمان، مصر، اردن، لبنان، عراق، ایران، اسرائیل، یمن، شام اور فلسطین کے علاقے شامل ہیں۔
حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے امریکی حکام نے منگل کے روز قطر، کویت، بحرین، عراق اور اردن سے اپنے غیر ضروری سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی خطے میں کئی امریکی سفارتی مشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔
سعودی عرب میں حالیہ ڈرون حملے کے بعد وہاں موجود امریکی مشن کو تین مارچ سے بند کر دیا گیا ہے اور جدہ، ریاض اور ظہران میں موجود امریکیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فی الحال اپنی جگہوں پر ہی رہیں۔
اسی طرح کویت میں امریکی سفارت خانے نے غیر معینہ مدت تک بندش کا اعلان کیا ہے اور تمام قونصلر ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
اسرائیل میں موجود امریکی سفارت خانے نے واضح کیا ہے کہ وہ شہریوں کو وہاں سے نکالنے یا براہِ راست مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، اس لیے وہاں موجود امریکی شہری اپنے تحفظ اور واپسی کے لیے خود انتظامات کریں۔ جو شہری واپسی کے لیے حکومتی رہنمائی چاہتے ہیں ان کے لیے واشنگٹن نے چوبیس گھنٹے کام کرنے والی ہیلپ لائنز قائم کر دی ہیں۔
یہ تمام اقدامات خطے میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کے تناظر میں کیے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکی سفارتی مراکز کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور فوجی اڈوں کی طرف غیر ضروری سفر پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔















