سعودی آئل ریفائنری ’آرامکو‘ پر میزائل حملہ، حکام کا ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

سعودی حکام کا کہنا تھا کہ آگ اس وقت لگی جب دو ڈرون طیاروں کو فضا میں روکنے کی کارروائی کے دوران ان کا ملبہ نیچے گرا، جس سے تنصیبات متاثر ہوئیں۔
شائع 04 مارچ 2026 04:01pm

سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی ’آرامکو‘کی راس تنورہ ریفائنری پر ایک پروجیکٹائل گرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی آرامکو کے زیر انتظام راس تنورہ ریفائنری کو ایک میزائل نما شے نے نشانہ بنایا۔

یہ اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل اسی ریفائنری میں آگ لگنے کے بعد آپریشن عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔

سعودی حکام کا کہنا تھا کہ آگ اس وقت لگی جب دو ڈرون طیاروں کو فضا میں روکنے کی کارروائی کے دوران ان کا ملبہ نیچے گرا، جس سے تنصیبات متاثر ہوئیں۔

دوسری جانب سعودی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ راس تنورہ ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے ڈرون حملے کو بروقت ناکام بنا دیا گیا۔

وزارت دفاع کے مطابق ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، تاہم اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

راس تنورہ ریفائنری سعودی عرب کی سب سے بڑی مقامی آئل ریفائنری سمجھی جاتی ہے اور یہ عالمی توانائی منڈی میں بھی اہم حیثیت رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس نوعیت کی تنصیبات کو نقصان پہنچتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف سعودی عرب بلکہ عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔