جنگ کا چھٹا روز: اسرائیل کے تہران اور قم شہر پر فضائی حملے، ہلاکتیں تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئیں
اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران اور شہر قم میں شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملے چھٹے روز بھی جاری ہیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ آج چھٹے روز بھی تہران میں صبح سویرے شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس میں جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔
اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران اور قم میں شدید فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں دھماکوں کی آوازیں شہر بھر میں سنائی دیں اور فضاء میں دھواں بلند ہوا۔ ان حملوں سے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 1 ہزار 45 تک پہنچ چکی ہے۔ ایران کے مختلف اسپتالوں، اسکولوں اور دیگر اہداف پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ ایران پر اب تک پانچ ہزار ٹن سے زیادہ گولہ بارود برسا چکی ہے۔ ایران میں اس شدید فضائی کارروائی کے باعث عوام میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور ملک بھر میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اسرائیل کے لبنان پر حملے بھی مزید شدت اختیار کر چکے ہیں، جہاں ایک رہائشی کمپلیکس پر حملے میں 3 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے ہیں۔ لبنان میں مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 75 تک جا پہنچی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر سیکڑوں میزائل داغے گئے ہیں، جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ایرانی اسلامی انقلاب گارنے اپنی جوابی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، اور ان کی 19ویں لہر جاری ہے۔ ان کا ہدف خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے، اسرائیلی علاقوں اور خاص طور پر بن گوریون ایئرپورٹ ہیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے ایران کے شہر قم میں ایک بیلسٹک میزائل لانچر کو تباہ کر دیا، جو حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرائی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اصفہان میں ایک ہوائی دفاعی نظام کو بھی تباہ کیا گیا، تاکہ ایران کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے اور اسرائیل کے فضائی کنٹرول کو بڑھایا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، اور یہ بین الاقوامی برادری کے لیے ایک سنگین تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں ایران کے شہروں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے، اور عالمی توانائی مارکیٹس بھی اس تنازعے کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہیں۔ اس جنگ کے عالمی معیشت اور سیاسی تعلقات پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔











