ایران کی ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید؛ ایرانی وزیرِ خارجہ کا ترک ہم منصب سے رابطہ
ایران نے ترکیہ پر میزائل حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پڑوسی ملک کی سرحدی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ اور ترک ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے جمعرات کو بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ دوست ملک ہے اور ایرانی فوج پڑوسی ملک کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے۔
بیان میں ایرانی فوج کی جانب سے ترکیہ پر میزائل داغنے کی بھی تردید کی گئی ہے۔
ترک وزارتِ دفاع نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ شامی اور عراقی فضائی حدود سے گزرنے والے ایرانی میزائل کو نیٹو کے فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے، تاہم میزائل کے اصل ہدف کا تعین نہیں ہو سکا تھا۔
واضح رہے کہ ترکیہ کا انجرلیک ایئربیس امریکی اور ترک فضائیہ کے کنٹرول میں ہے جسے امریکی اور نیٹو اتحادی افواج بھی استعمال کرتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا ترک ہم منصب ہاکان فیدان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے میں جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور صیہونی حکومت کی مذموم سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ جنگ کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات پر متعدد ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں۔














