تہران کے دیرینہ اتحادی چین اور روس، ایران جنگ سے دور کیوں ہیں؟

اگرچہ روس اور چین کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن سخت بیانات کے باوجود کسی نے بھی ایران کی حمایت میں فوجی مداخلت کا اشارہ نہیں دیا ہے۔
شائع 05 مارچ 2026 03:03pm

تہران کے دو طاقتور ترین سفارتی شراکت دار روس اور چین نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے، اس جنگ میں اب تک ایک ہزار سے زائد ایرانی مارے جاچکے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کو ”انسانی اخلاقیات کے تمام اصولوں کی شرمناک خلاف ورزی“ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے بھی اپنے اسرائیلی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”طاقت مسائل کا حقیقی حل نہیں ہو سکتی“ اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کریں۔

دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی بھی درخواست کی ہے۔

اگرچہ روس اور چین کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انہوں نے ماضی میں امریکا کی قیادت میں قائم عالمی نظام کے خلاف ایک متحدہ محاذ پیش کیا ہے، لیکن سخت بیانات کے باوجود کسی نے بھی ایران کی حمایت میں فوجی مداخلت کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

روس اور ایران: عسکری اتحادی نہیں اسٹریٹیجک شراکت دار

جنوری 2025 میں روس اور ایران نے ایک جامع تزویراتی (اسٹریڑیجک) شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں دفاع، انٹیلی جنس اور تجارت سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ فروری کے اواخر میں، امریکا اور اسرائیل کے حملے سے محض ایک ہفتہ قبل، دونوں ممالک نے بحر ہند میں مشترکہ بحری مشقیں بھی کی تھیں۔

تاہم، جب جنگ شروع ہوئی تو ماسکو قانونی طور پر مداخلت کا پابند نہیں تھا کیونکہ اس معاہدے میں ”باہمی دفاع“ کی شق شامل نہیں تھی۔

روس کے ایک خارجہ پالیسی تھنک ٹینک سے وابستہ ماہر آندرے کورتونوف نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ روس کا شمالی کوریا کے ساتھ معاہدہ زیادہ اس بات کا پابند ہے کہ روس شمالی کوریا کے کسی بھی تنازع میں شامل ہو۔ لیکن، ایران کے معاملے میں، معاہدہ صرف یہ کہتا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے تنازعات میں دشمنانہ اقدامات سے باز رہیں گے۔

کورتونوف کا کہنا ہے کہ روس ایران کی حمایت میں براہ راست فوجی کارروائی اس لیے نہیں کرے گا کیونکہ اس میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔

ان کے مطابق اس کے علاوہ روس اس وقت یوکرین کے معاملے میں امریکا کی ثالثی کو ترجیح دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ تہران میں کچھ حلقے روس سے صرف سفارتی مدد سے بڑھ کر توقعات رکھتے تھے، لیکن ماسکو نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس سے آگے نہیں جائے گا۔

چین اور ایران کے تعلقات کی حدود

2021 میں چین اور ایران نے 25 سالہ تعاون کے ایک بڑے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد توانائی اور معاشی تعلقات کو وسعت دینا تھا۔

بیجنگ میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تعلقات زیادہ تر تجارتی اور عملی بنیادوں پر استوار ہیں۔

چینگ ہوا یونیورسٹی کی ماہر جوڈی وین نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ بیجنگ نے ہمیشہ اس شراکت داری کی حدود واضح رکھی ہیں، خاص طور پر فوجی مداخلت کے معاملے میں۔

ان کا کہنا ہے کہ ”چینی حکومت دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے، اور وہ ایران کو ہتھیار بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔“ اس کے بجائے بیجنگ کا کردار سفارت کاری اور بحران پر قابو پانے تک محدود رہے گا تاکہ خطے میں اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کر سکے۔

واضح رہے کہ یہ تعلقات برابر کی سطح کے نہیں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایران کی خام تیل کی برآمدات کا تقریباً 87 فیصد چین کو جاتا ہے، جو تہران کے لیے چین کی معاشی اہمیت کو واضح کرتا ہے، جبکہ چین کی عالمی تجارت میں ایران کا حصہ نسبتاً بہت کم ہے۔

ماہرین کے مطابق چین اب صرف یہ کوشش کر رہا ہے کہ خطے میں مکمل تباہی کو روکا جا سکے جو اس کے اپنے سیکیورٹی اور معاشی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔