ایران کے خلاف جنگ میں مذہبی رنگ: ٹرمپ نے پادریوں کو اوول آفس بلا لیا

معروف ایوینجلیک پادری رابرٹ جیفریس، سیموئل روڈریگز اور ڈیوڈ بارٹن بھی شریک
شائع 06 مارچ 2026 12:13pm

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد اوول آفس میں منعقد دعائیہ تقریب کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں منعقدہ تقریب میں صدر ٹرمپ کے ارد گرد کھڑے افراد ان پر ہاتھ رکھ کر دعا کرتے نظر آرہے ہیں۔

اجلاس میں معروف ایوینجلیک پادری رابرٹ جیفریس، سیموئل روڈریگز اور ڈیوڈ بارٹن بھی شریک تھے۔ شرکا نے صدر ٹرمپ کے لیے رہنمائی، حکمت اور حفاظت کی دعا کی۔

یہ ویڈیو عین اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ’مذہبی ٹچ‘ کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

برطانوی جریدے ڈیلی میل نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے گزشتہ چند دنوں میں مختلف فوجی یونٹس سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد اہلکاروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں۔ جس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی فوج کے افسران اس جنگ کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں سینیئر فوجی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سینئر آفیسر نے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خاص مذہبی مقصد کے لیے چنا گیا ہے تاکہ وہ ایران میں جنگ کی آگ بھڑکا کر اس عظیم معرکے کی بنیاد رکھیں جس کے بعد دنیا ختم ہو جائے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے۔
ناقدین کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف امریکی رہنماؤں کے بیانات میں مذہبی رنگ واضح نظر آرہا ہے۔
امریکی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ٹرمپ اپنی انتخابی مہم اور حکومتی پالیسیوں میں مسیحی قدامت پسندوں کو کلیدی اہمیت دیتے ہیں۔ اس تقریب کا مقصد بھی اس عزم کا اعادہ کرنا تھا کہ ان کی حکومت مذہبی اقدار پر مبنی ہے۔