مائیکروویو میں کھانا ڈھک کر پکائیں یا نہیں؟

چھوٹی چھوٹی عادتیں ہماری صحت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔
شائع 08 مارچ 2026 11:02am

آج کل کی تن آساں زندگی میں زیادہ تر گھروں میں مائیکروویو کا استعمال عام ہو چکا ہے۔ ہم بس کھانا اندر رکھتے ہیں ، بٹن دبا تے ہی کھانا گرم کر لیتے ہیں اور اپنی مصروفیات میں لگ جاتے ہیں۔ لیکن ایک چھوٹا سا سوال اکثر لوگوں کو پریشان کرتا ہے: کیا مائیکروویو میں کھانا ڈھک کر پکانا چاہیے یا بغیر ڈھکے؟

ماہرینِ غذائیت اور فوڈ سائنس کے مطابق یہ معمولی سا فیصلہ دراصل کھانے کی غذائیت، حفاظت اور ذائقے پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

مائیکروویو کھانے کے اندر موجود پانی کے مالیکیولز کو تیزی سے حرکت میں لا کر حرارت پیدا کرتا ہے۔ یہی حرارت کھانے کو اندر سے باہر کی طرف پکاتی ہے۔ اس عمل میں کھانے میں موجود نمی کا اہم کردار ہوتا ہے۔

جب کھانے کو ڈھک کر مائیکروویو میں رکھا جاتا ہے تو اس سے بھاپ اندر ہی رہتی ہے۔ اس بھاپ کی وجہ سے کھانا یکساں طور پر گرم ہوتا ہے اور نمی برقرار رہتی ہے۔ اس طریقے سے کھانے میں موجود وٹامن سی، فولیٹ اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس بہتر طور پر محفوظ رہتے ہیں۔جو حرارت سے خراب ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ڈھک کر پکانے سے کھانا جلدی تیار ہوتا ہے اور مختلف حصوں میں ٹھنڈے مقامات بننے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں، جس سے بیکٹیریا کے باقی رہنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

سبزیاں جو ڈھکن کے ساتھ پکائی جاتی ہیں، ان کی رنگت اور ساخت برقرار رہتی ہے، جبکہ بغیر ڈھکن کے پکنے پر وہ سکڑ سکتی ہیں، سخت ہو سکتی ہیں یا کنارے خشک ہو سکتے ہیں۔

چاول، اناج اور دوبارہ گرم کیے گئے کھانے بھی ڈھکن کے ساتھ بہتر رہتے ہیں کیونکہ بھاپ انہیں سخت یا ربڑ کی طرح ہونے سے بچاتی ہے۔

اگر کھانا بغیر ڈھکے مائیکروویو میں رکھا جائے تو بھاپ باہر نکل جاتی ہے۔ اس سے کھانے کی سطح خشک ہو سکتی ہے اور بعض حصے زیادہ جبکہ بعض کم گرم ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کھانے کی ساخت اور غذائیت متاثر ہو سکتی ہے۔

اگرچہ یہ بعض اوقات مفید ہو سکتا ہے، مثلاً روٹی کی سطح خشک رکھنی ہو یا پانی زیادہ والے کھانوں میں اضافی نمی کو بخارات کے ذریعے کم کرنا ہو، لیکن عام طور پر اس سے غذائی اجزاء کا نقصان اور کھانے کے کچھ حصوں کے زیادہ گرم ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کچھ لوگ بغیر ڈھکن پکانا پسند کرتے ہیں، جس کی وجہ عادت یا خوف ہوتا ہے۔ بہت سے افراد پریشر یا گندگی کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔ تاہم سائنسی شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ وینٹیڈ یا ہلکا سا ڈھکن استعمال کرنا کافی ہے، جو اضافی بھاپ نکالتا ہے اور پھر بھی ڈھک کر پکانے کے فوائد فراہم کرتا ہے۔ مکمل سیل کرنا مناسب نہیں، لیکن سوچ سمجھ کر ڈھکنا فائدہ مند ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مائیکروویو میں شیشے، سیرامک یا مائیکروویو سیف کور استعمال کرنا زیادہ محفوظ ہے۔ عام پلاسٹک کے برتن حرارت میں کیمیکل خارج کر سکتے ہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔

اسی طرح ڈھکن کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے تھوڑا سا کھلا رکھنا بہتر ہے تاکہ اضافی بھاپ باہر نکل سکے۔

تحقیقات کے مطابق زیادہ تر کھانوں، خاص طور پر سبزیوں، چاول، اناج اور بچا ہوا کھانا گرم کرتے وقت انہیں ڈھک کر یا ہلکا سا کور کرکے مائیکروویو میں رکھنا بہتر ہوتا ہے۔ اس سے غذائیت محفوظ رہتی ہے، کھانا یکساں گرم ہوتا ہے اور ذائقہ بھی برقرار رہتا ہے۔

چھوٹی چھوٹی کچن عادتیں ہماری صحت پر بڑا اثر ڈال سکتی ہیں اور مائیکروویو میں کھانا صحیح طریقے سے گرم کرنا بھی انہی میں سے ایک اہم عادت ہے۔