امریکا کا ایرانی یورینیم کو تحویل میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور
امریکا نے ایرانی یورینیم کو قبضے لینے کیلئے اسپیشل فورسز بھیجنے پر غور شروع کردیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران کے پاس 60 فیصدتک افزودہ 450 کلوگرام یورینیم موجود ہے، امریکا کو ایران کی یورینیم حاصل کرنےکیلئےاس کی سرزمین پرجانا پڑے گا، ابھی یہ واضح نہیں یہ امریکی اور اسرائیلی یا مشترکہ مشن ہوگا،امکان ہے یہ کارروائی تب ہوگی جب ایران کی جانب سے خطرہ کم ہوگا۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران تہران کے جوہری پروگرام کے اہم حصے یعنی اس کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر خصوصی فورسز بھیجنے پر غور شروع کیا ہے، جس کا مقصد اسے محفوظ کرنا یا غیر فعال کرنا ہے۔ یہ بات امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس نے اپنی ایک رپورٹ میں 8 مارچ 2026 کو چار ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دو اہم آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے: ایک یہ کہ فورسز ایران سے اس جوہری مواد کو مکمل طور پر باہر نکال دیں، اور دوسرا یہ کہ وہاں ماہرین کے ساتھ مل کر اسے ایسے حالت میں تبدیل یا کمزور کر دیا جائے کہ وہ ہتھیاروں میں استعمال نہ ہو سکے۔ ایسے منصوبے میں داخل ہونا جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے سوچا جا رہا ہے، جب زمینی حالات مزید واضح ہوں گے اور ایرانی فوجی مزاحمت ممکنہ طور پر کمزور ہو گی۔
ایران کے پاس تقریباً 450 کلوگرام 60 فیصد افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ماہرین کے مطابق چند ہفتوں میں 90 فیصد ’ہتھیار سازی‘ معیار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اس مقدار کو ہتھیار بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے امریکی اور اسرائیلی حکام اسے بڑی سلامتی خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک امریکی فورسز نے زمین پر کارروائی نہیں کی، تاہم مستقبل میں ایسا آپشن زیر غور ہو سکتا ہے۔ ”ابھی ہم صرف انہیں تباہ کر رہے ہیں، لیکن ابھی ہم اس کی طرف نہیں گئے، بعد میں یہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ابھی نہیں،“ انہوں نے کہا۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے جوہری اور میزائل منصوبے زیر زمین اتنے محفوظ ہو گئے کہ انہیں کسی بھی حملے سے بچایا جا سکے، اسی وجہ سے امریکا اور اسرائیل نے کارروائی کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کی نیوکلیئر سائٹس شدید بمباری کی زد میں آئیں۔ اس دوران سب سے بڑا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے نتنز اور فورڈو کی زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اصفہان میں ٹام ہاک کروز میزائل استعمال ہوئے۔
سائٹ پر تازہ سیٹلائٹ تصاویر اور تجزیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے زمینی مشینری کے ذریعے دوبارہ زمین ہٹانے اور زیر زمین راستوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔ بعض مقامات پر زمین کی کھدائی کے بعد کسی نامعلوم شے کو ٹارپ کے نیچے دفن کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق زمینی کارروائی انتہائی خطرناک ہوگی اور اس سے پہلے ہوا سے حملے جاری رکھنے ہوں گے تاکہ ایرانی دفاع کو مزید کمزور کیا جا سکے۔ موجودہ حکمت عملی کے تحت ابھی تک خصوصی فورسز کی تعیناتی منصوبے میں شامل نہیں، تاہم امریکی حکومت اس خطرے کو استعمال کر کے ایران پر دباؤ ڈالنے کی بھی کوشش کر رہی ہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ یا غیر فعال کیا جا سکے۔
ایران کے پاس تقریباً 970 پاؤنڈ انتہائی افزودہ یورینیم ہے، جس میں زیادہ تر اصفہان میں محفوظ ہے۔ موجودہ 60 فیصد افزودگی کو ہتھیار بنانے کے لیے 90 فیصد تک بڑھانا آسان ہے اگر سینٹری فیوجز فعال رہیں۔
یہ صورتحال امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ یورینیم کی حفاظت اور اس تک ایران کی رسائی کو روکنا جنگ کی جاری حکمت عملی کا ایک نازک پہلو ہے۔












