ایران جنگ: 200 بچوں سمیت 1200 سے زائد ایرانی شہید، دو ہزار اسرائیلی زخمی

تہران میں آئل ڈپوز پر فضائی حملہ، قبرص میں ہزاروں شہریوں کا انخلا
شائع 08 مارچ 2026 02:11pm

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث دونوں ممالک میں جانی و مالی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 1,929 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 157 افراد گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اسپتالوں میں لائے گئے۔

اسرائیلی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ زیر علاج افراد میں نو مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 42 افراد کی حالت درمیانی نوعیت کی بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 70 افراد معمولی زخمی ہیں۔ حکام کے مطابق اسپتالوں میں لائے جانے والے کئی افراد ایسے بھی ہیں جو حملوں کے دوران محفوظ پناہ گاہوں کی طرف جاتے ہوئے زخمی ہوئے۔

دوسری جانب ایران کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 1200 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

وزارت کے ترجمان حسین کرمان پور کے مطابق مرنے والوں میں تقریباً 200 بچے اور 200 خواتین بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ 400 خواتین بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکا نے آئل ڈپوز پر فضائی حملہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ تیل کے ذخیرہ کرنے والی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد آگ کے بلند شعلے اور دھوئیں کے بادل فضا میں پھیل گئے۔

ایرانی خبر ایجنسی فارس کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے حملوں میں تہران اور قریبی صوبے البرز میں چار آئل اسٹوریج ڈپو اور ایک آئل ٹرانسفر مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے میں چار ٹینکر ڈرائیوروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی نے بھی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

ادارے کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک کم از کم 9,669 شہری یونٹس تباہ ہو چکے ہیں۔ ان میں 7,943 رہائشی مکانات اور 1,617 تجارتی یونٹس شامل ہیں۔

اسی دوران لبنان کے جنوبی گاؤں سر الغربییہ میں اسرائیلی حملے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے۔ لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق حملہ ایک تین منزلہ عمارت پر کیا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا کر لاشوں کو نکالنے کا کام کر رہی ہیں۔

ادھر قبرص میں بھی سیکیورٹی صورتحال کے باعث احتیاطی اقدامات جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اکروتیری کے علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد کو اس وقت اپنے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جب ایک ایرانی ساختہ ڈرون برطانوی فوجی اڈے کے قریب گرا۔