آبنائے ہرمز بندش: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔
اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی۔
گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔
















