ایران کا جوہری خطرہ ختم ہوگا تو تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک چھوٹی سی قربانی ہے اور صرف احمق ہی اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے اور یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہیں، ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد یہ قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔
انہوں نے لکھا کہ تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ قابلِ قبول ہے کیوں کہ اس کے بدلے امریکا اور دنیا کو سلامتی اور امن حاصل ہوگا۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ امریکا اور دنیا کے امن اور سلامتی کے لیے تیل کی عارضی بلند قیمت ایک بہت چھوٹی قیمت ہے اور جو اس کے جو اس کے برعکس سوچے گا وہ احمق ہی ہوگا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔












