رمضان میں نیند پوری نہیں ہوتی؟ یہ مفید ٹپس آزمائیں

رمضان میں متوازن نیند جسمانی و ذہنی صحت اور توانائی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اپ ڈیٹ 10 مارچ 2026 11:54am

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ روزے، نمازوں اور خاص کھانوں کی رونق تو بڑھ جاتی ہے، مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر افراد کو سب سے بڑی پریشانی سحری کے لیے جاگنا اور پھر دن بھر کی تھکاوٹ میں نیند کی کمی کا سامنا کرنا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو عام دنوں میں بھی نیند کے مسائل کا شکار رہتے ہیں، تو اب اس مسئلے سے کیسے نمٹاجائے؟

انسومینیا یا نیند کی کمی کا شکار افراد جنہیں کوشش کے باوجود رات کو نیند نہیں آتی رمضان میں ان کی راتیں اور بھی طویل اور بے چین ہو جاتی ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ چند سادہ عادات اپنا کر نیند کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، تاکہ روزے بھی اچھے گزریں، سارا دن تھکاوٹ کا احساس نہ ہو اور موڈ بھی متوازن رہے۔

سب سے اہم بات سونے اور جاگنے کے اوقات کا ایک فکسڈ شیڈول بنانا ہے۔ کوشش کریں کہ ہر رات تقریباً ایک متعین کئے ہوئے وقت پر لیٹیں، اور فجر کے بعد اگر ممکن ہو تو 20 سے 30 منٹ کی ہلکی سی نیند لے لیں۔

فجر کی نماز کے بعد کمرے کی روشنی فوراً بند کر دیں اور پردے کھینچ دیں، تاکہ باہر کی روشنی آنکھوں تک نہ پہنچے اور جسم کی اندرونی گھڑی (circadian rhythm) سمجھ جائے کہ اب سونے کا وقت ہے۔ کمرے کا درجہ حرارت مناسب حد تک ٹھنڈا رکھیں، پنکھا یا اے سی کا استعمال کریں، اور بستر پر لیٹتے ہی گہری سانسیں لینے کی مشق شروع کر دیں۔ آنکھیں بند کر کے 4 سیکنڈ سانس اندر، 4 سیکنڈ روک کر 6 سیکنڈ باہر نکالیں۔ یہ سانس کی مشق (بریتھنگ ٹیکنیک) دماغ کو دو تین منٹ میں پرسکون کر دیتی ہے۔

دن میں بھی بہت زیادہ سونے کے بجائے صرف ایک مختصر جھپکی کو معمول بنائیں، تاکہ رات کی نیند خراب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی سب سے اہم بات یہ ہے کہ سونے سے کم از کم دو گھنٹے پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹی وی سے دور رہیں، کیونکہ ان کی تیز اور نیلی روشنی دماغ کو جاگنے کا سگنل دیتی ہے۔

کمرے میں ہلکی اور نرم روشنی، مثلاً پیلے بلب یا ٹیبل لیمپ کا استعمال، دماغ کو آہستہ آہستہ نیند کے لیے تیار کرتا ہے۔ گہرا اندھیرا بھی نیند کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔

سحری کو صرف پیٹ بھرنے کے بجائے اسے دن بھر کی توانائی اور رات کی نیند کے لیے بنیاد بنائیں۔ ایسی غذا کا انتخاب کریں جس میں پروٹین اور فائبر مناسب مقدار میں ہو، جیسے دہی، انڈے، دال یا ہلکا سوپ۔ بہت بھاری، تیل میں تلی ہوئی چیزیں یا حد سے زیادہ میٹھا، جیسے خوب تلے ہوئے پراٹھے یا میٹھے پکوان، سحری کے بعد پیٹ کو بوجھل اور جسم کو سست کر دیتے ہیں۔

سحر ہو یا افطار بھاری کھانوں یا غذا کی وجہ سے نہ دن میں تازگی رہتی ہے نہ رات کو سکون سے نیند آتی ہے۔ سحری کے دوران آہستہ آہستہ دو سے تین گلاس پانی پینا بھی ضروری ہے، جبکہ کھجور، تربوز یا دیگر پانی والی غذاؤں کو شامل کر کے جسم میں پانی کی کمی سے بچا جا سکتا ہے۔

رمضان میں رات گئے دوستوں کے ساتھ پارٹیز اور باہر کھانے پینے کے رجحان میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگرچہ سماجی میل جول اپنی جگہ خوشگوار ہوتا ہے، مگر واپس آ کر اکثر نیند غائب ہو جاتی ہے اور جسم عجیب سی بے چینی محسوس کرتا ہے۔

ایسے میں چند منٹ کی ہلکی چہل قدمی، تازہ ہوا میں سانس لینا اور پھر کسی ہلکی ہربل چائے، مثلاً دار چینی کی چائے کا استعمال جسم اور دماغ دونوں کو رفتہ رفتہ آرام کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ مشروبات نیند آور گولیوں کی طرح نہیں بلکہ قدرتی طور پر سکون بخش اثر رکھتے ہیں اور نیند کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔

ذہنی دباؤ اور بے چینی بھی نیند کے سب سے بڑا دشمن ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر رمضان میں، جب دن بھر کی مصروفیات، عبادات، افطار کی تیاریاں اور سحری کے انتظامات ایک ساتھ ذہن پر سوار رہتے ہیں۔

تراویح کے بعد اگر صرف دس منٹ کا وقت نکال کر خاموشی سے ذکر، استغفار یا سانسوں پر توجہ کے ساتھ ہلکا سا مراقبہ کیا جائے تو دماغ کے بھاگتے ہوئے خیالات سست ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح شام کے وقت ہلکی ورزش، اسٹریچنگ یا یوگا کی آسان مشقیں جسم کے عضلات کو ڈھیلا کرتی ہیں اور رات کی نیند کو گہرا بنانے میں مدد دیتی ہیں۔

ان چند آسان عادات کو اپنایا جائے تو رمضان کی راتیں تھکن اور جھنجھلاہٹ کے بجائے سکون اور تازگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ نیند کو کمزور عادت کے طور پر نہیں بلکہ روزے کو قوت دینے والی بنیادی ضرورت کے طور پر لینا ضروری ہے، کیونکہ جب جسم اور دماغ دونوں آرام میں ہوں تو عبادت بھی زیادہ خشوع و خضوع سے ہوتی ہے اور روزمرہ کے کام بھی بہتر انداز میں انجام پاتے ہیں۔