’ایران جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے‘، ٹرمپ کا روسی صدر سے رابطے کے بعد بیان

صدر پیوٹن نے امریکی صدر کو ایران سے جنگ کے پرامن حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کی: کریملن
شائع 10 مارچ 2026 10:54am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد ختم ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔

روسی صدر سے رابطے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ چند دنوں یا ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے تو ان کا جواب تھا ’مجھے لگتا ہے جلد، بہت جلد‘۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ایران اور یوکرین جنگ کے بارے میں ٹیلی فون پر مثبت گفتگو ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرانے میں مدد کرنا چاہتا ہے۔ میں نے ان سے کہا ہے کہ آپ یوکرین جنگ ختم کر کے زیادہ مدد کر سکتے ہیں تاہم وہ اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی صدر کے مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے تنازع کو جلد سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے بتایا کہ صدر پیوٹن نے خلیجی ممالک کے رہنماؤں، ایران کے صدر اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ہونے والے حالیہ رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد ایران جنگ کے جلد خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین جنگ پر بھی گفتگو ہوئی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ جلد ختم اور اس تنازع کا طویل مدتی سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

کریملن کے مطابق دونوں رہنماؤں نے عالمی تیل کی منڈی کے تناظر میں وینزویلا کی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ چین، روس اور فرانس سمیت کئی ممالک نے تہران سے جنگ بندی کے حوالے سے رابطہ کیا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے خلاف جارحیت دوبارہ نہ دہرائی جائے۔