’دنیا 200 ڈالر فی بیرل تیل خریدنے کے لیے تیار ہو جائے‘، ایران نے خبردار کردیا

اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک ایک بھی لیٹر تیل نہیں پہنچنے دیں گے۔ ترجمان ایرانی فوجی کمانڈ
شائع 11 مارچ 2026 08:11pm

ایرانی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ دنیا تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔

ترجمان ایرانی فوجی ابراہیم ذوالفقاری نے بدھ کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں کا دارومدار علاقائی سلامتی پر ہے علاقائی سلامتی کو امریکا نے غیرمستحکم کر دیا ہے۔

ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکا تیل کی قیمتوں کو قابو میں نہیں رکھ سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکیوں، اسرائیل اور ان کے شراکت داروں تک ایک بھی لیٹر تیل نہیں پہنچنے دیں گے۔ کوئی بھی بحری جہاز یا ٹینکر جو ان کی جانب جائے گا، وہ ہمارا جائز ہدف ہوگا۔

ایران نے بدھ کے روز اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے ذریعے ایران نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ وہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے شدید فضائی حملوں کے باوجود جواب دینے اور توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عالمی منڈی میں ہفتے کے آغاز پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم بعد میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی جبکہ اسٹاک مارکیٹوں میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ سرمایہ کار اس امید پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اس جنگ کو جلد ختم کرنے کا کوئی راستہ نکال لیں گے۔

ایران کی فوجی کمان کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی قیمت کا انحصار خطے کے امن و استحکام پر ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران میں ایک بینک کے دفاتر پر رات کے وقت حملہ کیا گیا جس کے بعد ایران ایسے بینکوں کو نشانہ بنا سکتا ہے جو امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں لوگوں کو بینکوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور رہنا چاہیے۔

دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی قیادت اب نجی سطح پر اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ ایران کا حکومتی نظام اس جنگ کے باوجود برقرار رہ سکتا ہے۔ دو دیگر اسرائیلی حکام کے مطابق ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ واشنگٹن اس فوجی مہم کو جلد ختم کرنے کے قریب ہے۔

تاہم زمینی صورتحال میں تاحال کسی قسم کی کمی کے آثار نہیں ملے۔ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت بھی معمول پر نہیں آ سکی۔ یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل گزرتا ہے، مگر ایرانی ساحل کے قریب تنگ راستے میں ناکہ بندی کے باعث اس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال 1970 کی دہائی کے بعد توانائی کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔