شمالی کوریا کا ایک اور کروز میزائل تجربہ، جدید جنگی جہاز سے 6 میزائل داغ دیے

کم جونگ اُن نے تجربے کی نگرانی کی، جوہری صلاحیت کو نئے مرحلے میں داخل ہونے کا اعلان
شائع 11 مارچ 2026 09:28pm

شمالی کوریا نے ایک ہفتے کے دوران دوسری بار کروز میزائلوں کا بڑا تجربہ کر لیا ہے۔

شمالی کوریا نے ایک اور کروز میزائل تجربہ کر لیا ہے جو ایک ہفتے کے دوران اس نوعیت کا دوسرا بڑا تجربہ قرار دیا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق اس تجربے کی نگرانی ملک کے سربراہ کم جونگ اُن نے کی۔

رپورٹ کے مطابق یہ میزائل تجربہ نمپو کے ساحل کے قریب کیا گیا جہاں نئے تباہ کن بحری جہاز “چوئی ہیون نمبر 51” سے یکے بعد دیگرے چھ کروز میزائل داغے گئے۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ میزائلوں نے تقریباً 169 منٹ تک اپنے مقررہ راستوں پر پرواز کی اور بعد ازاں ایک جزیرے پر موجود اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

کم جونگ اُن نے ایک نامعلوم مقام سے ویڈیو لنک اور ٹیلیفون کے ذریعے اس تجربے کی نگرانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے قومی اسٹریٹجک ہتھیاروں کے مربوط کمانڈ سسٹم پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تجربے کے دوران کم جونگ اُن کے ساتھ ان کی نوجوان صاحبزادی جوئے بھی موجود تھیں۔ مبصرین کے مطابق انہیں مستقبل میں ملک کی قیادت کے ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کم جونگ اُن نے اس موقع پر کہا کہ شمالی کوریا کی جوہری قوت اب ایک منظم اور کثیرالجہتی آپریشنل مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ زیر تعمیر پانچ ہزار ٹن وزنی اور مستقبل کے آٹھ ہزار ٹن وزنی بحری جہازوں پر روایتی توپوں کے بجائے سپرسونک ہتھیاروں کے نظام نصب کیے جائیں۔

ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد طویل فاصلے تک جوہری حملے کی صلاحیت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران پر حالیہ حملوں کے بعد عالمی سطح پر جوہری صلاحیتوں اور عسکری توازن کے حوالے سے بحث میں تیزی آ گئی ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مسلسل جدید بنا رہا ہے۔