ایران میں اسکول پر مہلک حملہ، ابتدائی رپورٹ میں امریکی فوج کی غلطی کا انکشاف

شجرہ طیبہ اسکول پر امریکی فوج کا حملہ دراصل قریبی فوجی ہدف کو نشانہ بنانے کی کارروائی کے دوران غلطی سے ہوا، رپورٹ
شائع 12 مارچ 2026 09:16am

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران میں ایک اسکول پر ہونے والا مہلک میزائل حملہ ممکنہ طور پر پرانی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں بچوں اور اساتذہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ انکشاف جاری فوجی تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ سے آگاہ ذرائع نے کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو ایران کے جنوبی شہر میناب میں واقع شجرہ طیبہ اسکول پر امریکی فوج کا حملہ دراصل قریبی فوجی ہدف کو نشانہ بنانے کی کارروائی کے دوران غلطی سے ہوا۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی فوج اس وقت قریبی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ایک فوجی مرکز پر حملے کر رہی تھی، تاہم ہدف کے تعین میں استعمال ہونے والی معلومات پرانی ہونے کے باعث اسکول اس کارروائی کی زد میں آگیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے حملے کے لیے جو ہدفی کوآرڈینیٹس تیار کیے وہ ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کی فراہم کردہ پرانی معلومات پر مبنی تھے، جس کے باعث یہ غلطی پیش آئی۔

دوسری جانب دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان نے تبصرے کی درخواست پر کہا کہ یہ واقعہ تحقیقات کے مراحل میں ہے، مزید تبصرے کے لیے معاملہ پینٹاگون کے سپرد ہے۔ جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نے بھی جاری تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ابتدائی نتائج پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق میناب میں اسکول پر حملے میں کم از کم 168 بچے اور 14 اساتذہ ہلاک ہوگئے تھے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز نے سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ فوجی تفتیش کاروں کے خیال میں حملے کے پیچھے ممکنہ طور پر امریکا تھا، جبکہ بدھ کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ اس کی ممکنہ وجہ پرانا ڈیٹا تھا۔ تاہم اس واقعے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ انہیں ان رپورٹس کے بارے میں علم نہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جاری فوجی تحقیقات کے ابتدائی نتائج کے مطابق جنوبی ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے پیچھے امریکا ہوسکتا ہے۔