خلیج کے پانیوں میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی، ڈرون بوٹس اور بارودی سرنگوں سے جہازوں پر حملے جاری

عراق کے قریب 6 جہاز نشانہ، 2 آئل ٹینکرز میں آگ بھڑک اُٹھی، ایک غیر ملکی کارکن ہلاک
شائع 12 مارچ 2026 10:05pm

خلیج کے پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق عراق کے قریب کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے دو آئل ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک غیر ملکی عملے کا رکن ہلاک ہوگیا۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں دھماکا خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔

مزید یہ کہ مختلف ممالک کے کئی جہازوں پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے قریب ایک کنٹینر جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے سے آگ بھڑک گئی۔

دوسری جانب عالمی شپنگ کمپنیوں کی درخواستوں کے باوجود امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ گذرگاہ عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصہ کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے حملے عالمی توانائی کی مارکیٹ اور بحری تجارتی راستوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں، اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔