پاسداران انقلاب کا امریکا کے طیارہ بردار ابراہم لِنکن کو میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکا کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اپ ڈیٹ 13 مارچ 2026 10:24am

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملے میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم امریکا کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ترکیہ کی نیوز ایجنسی انادولوکے مطابق ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کو میزائل اور ڈرون حملے میں شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران کیا گیا اور اس میں امریکی بحریہ کے کیریئر کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم بیان میں نقصان کی نوعیت، جہاز کی موجودہ حالت یا ممکنہ ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب امریکی فوج یا یونائٹیڈ اسٹیٹ نیوی کی طرف سے اس دعوے کے بارے میں ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن کو ایک ایٹمی توانائی سے چلنے والا نِمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز ہے جو طویل عرصے سے امریکی بحریہ کے بیڑے کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ جہاز ماضی میں مشرق وسطیٰ اور ہند۔بحرالکاہل کے علاقوں میں متعدد فوجی تعیناتیوں میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

دوسری جانب، ایران نے رات گئے اسرائیل پر مزید میزائل داغے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق تل ابیب کے آسمان میں میزائل روکنے کے مناظر دیکھے گئے اور حملوں کے فوری بعد شہر میں سائرن بج اٹھے۔

جنگ کے دوران اب تک تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ عالمی توانائی کی منڈیاں اور ٹرانسپورٹ کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔