امریکا نے روسی تیل کی خریداری پر پابندیوں میں نرمی کر دی
امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے لیے 30 دن کی پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران جنگ کے باعث متاثر عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے سمندر میں موجود پابندیوں کے شکار روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے لیے 30 روزہ رعایت جاری کر دی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایران جنگ کے باعث ہلچل کا شکار عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اس اعلان کے بعد ایشیائی منڈیوں میں جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی۔ یہ اقدام امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کی تازہ کوشش ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کے ردعمل کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے جب کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔
واشنگٹن نے بدھ کے روز یہ بھی اعلان کیا تھا کہ ایران جنگ کے بعد تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر سے 172 ملین بیرل تیل جاری کیا جائے گا۔ یہ اقدام بین الاقوامی انرجی ایجنسی (IEA) کے 32 رکن ممالک کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مجموعی طور پر 400 ملین بیرل تیل مارکیٹ میں لایا جائے گا۔
بین الاقوامی انرجی ایجنسی کے مطابق کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ تیل کی فراہمی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری لائسنس کے مطابق یہ اجازت 12 مارچ تک جہازوں میں لادے گئے روسی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت کے لیے دی گئی ہے، جو واشنگٹن کے وقت کے مطابق 11 اپریل کی رات تک مؤثر رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف 30 مقامات پر تقریباً 124 ملین بیرل روسی نژاد تیل سمندر میں موجود ہے۔
دوسری جانب یورپی کمیشن کی صدر ارسلا ون ڈر لیین نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں روس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کا وقت نہیں ہے۔
ادھر روسی صدر کے ایلچی کِرل دمیتریو نے بتایا کہ انہوں نے فلوریڈا میں امریکی وفد سے توانائی کے بحران پر بات چیت کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔
اس سے قبل امریکا 5 مارچ کو بھارت کو بھی 30 دن کے لیے اسی نوعیت کی رعایت دے چکا ہے تاکہ وہ سمندر میں رکے روسی تیل کی خریداری کر سکے۔











