ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ردعمل سے متعلق غلط اندازے لگائے تھے: سی این این
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ نے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کے ردعمل کے غط اندازے لگائے، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے امکان کو سب سے کم اہمیت دی گئی تھی۔ ان غلط اندازوں کے باعث اب امریکا کو بڑھتے ہوئے معاشی اور توانائی بحران کا سامنا ہے۔
سی این این نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی میڈیا کو ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل کی شدت کا درست اندازہ نہیں لگایا۔
کہ صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران پر حملے کے وقت اس بدترین صورتِ حال کو مکمل طور پر نظرانداز کیا، جس کا اب امریکا کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا پر حملے سے قبل ہونے والے منصوبہ بندی اجلاسوں میں وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور وزیرِ توانائی کرس رائٹ سمیت محکمہ خزانہ اور توانائی کے اہم عہدیدار بھی شریک تھے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے ماضی کی حکومتوں کی طرح مختلف اداروں کی معاشی پیش گوئیوں اور تجزیوں کو فیصلہ سازی کا بنیادی حصہ نہیں بنایا اور صرف اپنے قریبی مشیروں پر انحصار کے باعث اس امکان پر ادارہ جاتی بحث کم ہی ہوئی کہ ایران امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کر دے تو عالمی معیشت پر کیا اثرات پڑ سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں معاشی اثرات کم کرنے کے لیے اقدامات میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ان میں تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزارنے کے لیے امریکی بحریہ کی سیکیورٹی فراہم کرنا بھی شامل ہے، تاہم پینٹاگون کے مطابق فی الحال یہ اقدام انتہائی خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ توانائی کی عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ کو بھی زیادہ اہمیت دیتے نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکا کو مالی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ان حالات میں عالمی سفارتی حلقوں، توانائی کے ماہرین اور شپنگ کی صنعت سے وابستہ افراد میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ایک سابق امریکی عہدیدار نے کہا کہ کئی دہائیوں سے امریکی قومی سلامتی کی پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کو ہر قیمت پر روکا جائے، اس لیے موجودہ صورتحال حیران کن ہے۔
شپنگ کی صنعت کے نمائندوں نے امریکی بحریہ سے تیل بردار جہازوں کے لیے فوجی حفاظت فراہم کرنے کی متعدد بار درخواست کی، تاہم ذرائع کے مطابق ان درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا کیوں کہ امریکی فوج کو تاحال اس حوالے سے باضابطہ احکامات موصول نہیں ہوئے۔
اُدھر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو دباؤ کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ فی الحال بند رہے گی۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس کی بندش عالمی توانائی سپلائی اور قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں بھی تیل بردار جہازوں اور عملے کو خطرے سے بچانے کے لیے جنگ کے جلد خاتمے کی خواہاں ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی فوجی حکام گزشتہ چند دنوں سے توانائی کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ روزانہ بریفنگز اور رابطوں میں مصروف ہیں۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایرانی ڈرونز، میزائل حملوں اور سمندری بارودی سرنگوں سے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تنگ آبی راستے میں بڑی تعداد میں جہازوں کی موجودگی انہیں حملوں کے لیے زیادہ غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت توانائی بحران کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ سمندر میں پھنسے روسی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر نرم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس صدی پرانے امریکی بحری قانون ’جونز ایکٹ‘ میں بھی عارضی نرمی پر غور کر رہا ہے تاکہ توانائی مصنوعات کی ترسیل میں آسانی پیدا کی جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے وقتی ریلیف تو مل سکتا ہے، تاہم عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی سپلائی کے خدشات کے باعث قیمتوں میں اضافے کا رجحان فوری طور پر ختم ہونا مشکل ہے۔














