ایران کے جزیرے میں سرخ مٹی کی چٹنی کیوں کھائی جاتی ہے؟
خلیج فارس میں واقع آبنائے ہرمز صرف عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ہی اہم نہیں بلکہ یہاں ایک ایسا جزیرہ بھی موجود ہے جواپنی رنگ برنگی مٹی اور عجیب و غریب کھانوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس جزیرے کے مقامی لوگ سرخ مٹی سے تیار ہونے والی ایک خاص مچھلی کی چٹنی استعمال کرتے ہیں جسے سوراغ کہا جاتا ہے۔سوراغ محض ایک پکوان نہیں، بلکہ زمین اور سمندر کے ملاپ کی ایک انوکھی داستان ہے۔
جزیرہ ہرمز اپنی رنگ برنگی زمین کی وجہ سے ’رینبو آئی لینڈ‘ کے نام سے مشہور ہے، جہاں زعفرانی سرخ سے لے کر ہلدی جیسے پیلے رنگ کی مٹی پائی جاتی ہے۔۔ ان میں سب سے خاص سرخ مٹی ’گیلک‘ یاجیلک’ ہے۔ مقامی لوگ اسے پاؤڈر کی شکل میں کھانے کے بجائے ایک خاص مسالے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ سرخ مٹی آئرن سے بھرپور ہے اور جسم میں خون کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں جراثیم کش خصوصیات بھی ہوتی ہیں جو شدید گرمی میں مچھلی کو خراب ہونے سے بچاتی ہے۔
یہ چٹنی گہرے سرخ رنگ کی ہوتی ہے اور اس کا ذائقہ نمکین، کھٹا اور ہلکا سا مٹی جیسا محسوس ہوتا ہے۔ اسے عموماً جزیرے کی روایتی پتلی نرم روٹی تمشی ٓکے ساتھ چٹنی میں ڈبو کر کھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے چاولوں اور دال کے ساتھ بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔
سوراغ بنانے کا طریقہ
سوراغ کی تیاری ایک صبر آزما عمل ہے۔ سب سے پہلے تازہ مچھلی کو صاف کر کے نمک لگایا جاتا ہے۔ اسے ایک مٹی کے برتن میں بند کر کے دو ہفتے دھوپ میں رکھا جاتا ہے تاکہ مچھلی خمیر زدہ ہو جائے۔
بعد میں مچھلی کو نکال کر اس پر وہی سرخ مٹی اچھی طرح مل دی جاتی ہے۔ اس میں مالٹے کے خشک چھلکے اور لیموں کے پتے شامل کیے جاتے ہیں۔
پھر اسے مزید تین ہفتے دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔ کئی ہفتوں کے بعد یہ آمیزہ ایک گہرے رنگ اور تیز ذائقے والی چٹنی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جسے چاول، دال، جھینگوں یا روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
















