آبنائے ہرمز کے بعد ایک اور سمندری گزرگاہ بند ہونے کا خدشہ، عالمی تجارت خطرے میں
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد ایک اور اہم سمندری راستے کے بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جس سے عالمی تجارت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے جاری بیانات کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر یمن کے حوثی باغی اس جنگ میں براہ راست شامل ہو گئے تو باب المندب کی اہم آبی گزرگاہ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا میں حالیہ دنوں یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حوثی گروپ ایران کی جنگ میں شامل ہوگا اور یہ گروپ یمن کے محاذ پر خاموشی کیوں ہے؟ اب حوثی قیادت کی جانب سے دیے گئے بیانات کے بعد صورتحال مزید واضح ہوتی نظر آ رہی ہے۔
حوثی رہنما عبد الملک الحوثی کے حوالے سے رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ان کی فورسز ”ٹرگر پر انگلیاں رکھے ہوئے ہیں“ اور اگر حالات نے تقاضا کیا تو وہ کسی بھی وقت کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق حوثی گروپ اور ایران کے دیگر اتحادی گروہ مکمل الرٹ ہیں اور اگر جنگ مزید پھیلی تو وہ تہران کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حوثی اس تنازع میں داخل ہوتے ہیں تو وہ باب المندب کی آبی گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
باب المندب جزیرہ نما عرب کے جنوبی سرے پر واقع ایک اہم سمندری راستہ ہے جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور پھر بحر ہند سے جوڑتا ہے۔

اسی راستے سے جہاز بحیرہ احمر کے ذریعے نہر سویز تک پہنچتے ہیں اور پھر یورپ تک سفر کرتے ہیں۔
اس وجہ سے یہ راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر باب المندب بند ہو جاتا ہے تو جہازوں کو افریقہ کے جنوبی حصے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سے سفر کرنا پڑے گا۔
اس صورت میں ایشیا سے یورپ تک عام طور پر 20 سے 25 دن کا سفر تقریباً 30 سے 40 دن تک بڑھ سکتا ہے، جس سے عالمی تجارت میں تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہو جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت، سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے تیل کا تقریباً 10 فیصد اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس اسی راستے سے گزرتی ہے۔ 2023 میں روزانہ تقریباً 88 لاکھ بیرل تیل اس راستے سے منتقل کیا گیا تھا۔
حوثی گروپ ماضی میں بھی اس علاقے میں جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے۔ 2023 میں غزہ جنگ کے دوران حوثیوں نے کمرشل جہازوں پر سو سے زیادہ حملے کیے تھے جس کے بعد کئی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کا راستہ تبدیل کر دیا تھا۔ ان حملوں میں ڈرون، اینٹی شپ میزائل اور تیز رفتار کشتیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
حالیہ خدشات کے باعث دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے بھی احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ڈنمارک کی شپنگ کمپنی ’مرسک‘ نے پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے باب المندب کے راستے سے نہر سویز جانے والی بعض بحری سروسز عارضی طور پر روک دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہ خطے میں مختلف محاذ کھول کر امریکا اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔
ایران کے قریبی اتحادیوں میں لبنان کی حزب اللہ، عراق کی بعض ملیشیائیں، غزہ کی حماس اور یمن کے حوثی شامل ہیں، جنہیں ایران ”محور مزاحمت“ قرار دیتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب بھی متاثر ہوتا ہے تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ ان دونوں سمندری راستوں سے دنیا کے سمندری تیل کا تقریباً 30 فیصد اور ایشیا سے یورپ جانے والی بڑی تجارتی نقل و حمل گزرتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اگر باب المندب میں بھی نقل و حمل متاثر ہوئی تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں اہم آبی گزرگاہیں یعنی آبنائے ہرمز اور باب المندب ایک ساتھ متاثر ہو گئیں تو یہ سمندری تجارت کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک ثابت ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے عالمی سطح پر اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔











