ایرانی وزیرِ خارجہ نے امریکی ایلچی سے رابطے کی خبروں کو مسترد کردیا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ حالیہ رابطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ہے۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ان کا آخری رابطہ امریکی ایلچی سے اس وقت ہوا تھا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
انہوں نے ایکس پر وضاحتی پیغام میں لکھا کہ میرا آخری رابطہ مسٹر وٹکوف سے اُس وقت ہوا جب ان کے آجر نے ایران پر ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارتکاری کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کے برعکس تمام دعوے گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد صرف تیل کے تاجروں اور عوام کو غلط معلومات فراہم کرنا ہے۔
اس سے قبل امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ دنوں میں وٹکوف اور عراقچی کے درمیان براہِ راست رابطے کا چینل دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عباس عراقچی نے اسٹیو وٹکوف کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے۔
دوسری جانب ”ڈراپ سائٹ نیوز“ نامی پلیٹ فارم نے اس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اسٹیو وٹکوف نے عباس عراقچی کو پیغامات بھیجے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق عراقچی ان پیغامات کو نظر انداز کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد افراد شہید ہوئے۔
ایران نے بھی اس کے جواب میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے باعث عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے جبکہ تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔












