اسرائیل کا فضائی حملے میں ایران کے اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کو شہید کرنے کا دعویٰ

ایرانی حکام کی جانب سے علی لاریجانی کی ہلاکت یا زخمی ہونے سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
اپ ڈیٹ 17 مارچ 2026 04:32pm

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے گزشتہ رات ایران پر فضائی حملوں میں اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی اور بسیج فورس کے اہم کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔

اسرائیل نے گزشتہ رات ایران پر فضائی حملوں میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیلی فوج نے بھی حملے میں انہیں نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا علی لاریجانی گزشتہ رات ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے۔

اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں علی لاریجانی کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ ایک علیحدہ کارروائی میں بسیج فورس کے سربراہ غلام رضا سلیمانی بھی مارے گئے۔

بسیج ایک نیم فوجی رضاکار فورس ہے جو پاسدارانِ انقلاب کے ماتحت کام کرتی ہے اور اسے اکثر اندرونِ ملک مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

غلام رضا سلیمانی کو جولائی 2019 میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ ان کے دورِ سربراہی میں بسیج نے حکومت مخالف مظاہروں، بشمول 2019 کے احتجاجات، کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی سرگرمیوں کے باعث غلام رضا سلیمانی پر امریکا، یورپی یونین، برطانیہ اور دیگر ممالک نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیلی حملوں میں علی لاریجانی اور بسیج فورس کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کے زخمی یا جاں بحق ہونے سے متعلق کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم ایران کے سرکاری میڈیا اور علی لاریجانی سے منسوب ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے ان سے منسوب ایک نوٹ شائع ہوا ہے جس میں امریکی حملے میں جاں بحق ایرانی بحریہ کے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ ہاتھ سے لکھا ہوئے اس نوٹ پر 17 مارچ کی تاریخ درج ہے۔

علی لاریجانی نے پیر کے روز مسلم اکثریتی ممالک کے نام پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جارحیت کے مقابلے میں مسلم یکجہتی کا مطالبہ کیا اور بعض ممالک کے رویے پر بھی سوال اٹھایا۔

انہوں نے ایران کے خطے میں ہونے والے حملوں کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں ایران کے دفاعی اقدامات کا حصہ ہیں۔ علی لاریجانی نے کہا کہ اس تنازع میں کوئی درمیانی راستہ نہیں ہے اور مسلم دنیا کو واضح فیصلہ کرنا ہوگا کہ کون کس طرف ہے۔

علی لاریجانی ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی تھے اور اب بھی ایران کی اعلیٰ قیادت میں ان کی مرکزی حیثیت ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ملکی پالیسی کی تشکیل میں بھی ان کا انتہائی اہم کردار ہے۔