پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران کے خلیج کی توانائی تنصیبات پر حملے

اپنی تنصیبات کے دفاع کے لیے امریکا اور اس کے مفادات سے منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناگزیر ہو گیا، پاسدارانِ انقلاب
اپ ڈیٹ 19 مارچ 2026 02:12pm

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بیان میں کہا ہے کہ وہ جنگ کو تیل کی تنصیبات تک پھیلانا نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی دوست اور ہمسایہ ممالک کی معیشت کو نقصان پہنچانے کا ارادہ تھا۔ بیان کے مطابق اپنے تنصیبات کے دفاع کے لیے امریکا اور اس کے مفادات سے منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر میں موجود متعدد توانائی مراکز کو آئندہ چند گھنٹوں میں مزید نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے ان اہداف میں سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جُبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس، یو اے ای کا الغوس گیس فیلڈ، جب کہ قطر کے میسعید پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور راس لفان ریفائنری کو شامل بتایا ہے۔

یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی جب ایرانی گیس فیلڈ جنوبی پارس پر میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جو دنیا کے سب سے بڑے گیس ذخائر میں سے ایک ہے اور ایران اور قطر کے درمیان مشترکہ ہے۔

ایرانی وزارت پیٹرولیم کے مطابق حملے سے کچھ تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے امریکا کی منظوری سے کیا، جب کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کا امریکا کو علم نہیں تھا تاہم انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ کی صورتِ حال پر غصے میں آ کر ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا۔

خیال رہے ایران نے پارس گیس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ابوظہبی، قطر پر راکٹ حملے کیے، ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق میزائلوں کو ناکارہ بنانے کے بعد گرنے والے ملبے کے دو واقعات ہوئے۔ میزائل حبشان گیس فیسلٹی اور باب آئل فیلڈ کی طرف جا رہے تھے، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گیس تنصیبات پر آپریشن معطل کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل قطر کے راس الافان پر حملہ کیا گیا تھا۔ قطر کی وزارت داخلہ کے مطابق راس الافان انڈسٹریل سٹی پر میزائل کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اورکوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

قطر کی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے ملک پر پانچ میزائل داغے گئے تھے۔ ان میں سے چار میزائلوں کو مار گرایا گیا تھا جب کہ پانچواں راس الافان انڈسٹریل سٹی میں گرا تھا۔

ترجمان ماجد الانصاری نے ایران کے پارس گیس فیلڈ پر بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور اسے خطرناک اورغیر ذمہ دارانہ اقدام قرار دیا۔

برطانوی اخبارکا کہنا ہے کہ اس حملے کو خطے میں کشیدگی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں توانائی کے شعبے کو نسبتاً محدود رکھا گیا تھا تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں کو کسی حد تک مستحکم رکھا جا سکے۔

دوسری جانب خلیجی توانائی تنصیبات پر حملوں اور جوابی دھمکیوں کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے سپلائی چین پر بھی دباؤ ڈال دیا ہے۔

ایران کی جانب سے خلیجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔