امریکا کی ایران جنگ میں جاپان پر دباؤ ڈالنے کی تیاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات کو جاپان کی وزیر اعظم سانائے تکائچی کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ایران کے خلاف جاری جنگ میں مدد کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس سے ٹوکیو کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ اس سے قبل اتحادی ممالک کی جانب سے امریکا-اسرائیل فوجی مہم کی کمزور حمایت پر برہمی کا اظہار کر چکے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو کسی مدد کی ضرورت نہیں۔
تاہم اس کے باوجود ٹرمپ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے مزید بحری جہاز فراہم کرنے پر زور دے رہے ہیں، جہاں ایران نے تنازع کے دوران بڑی حد تک راستہ بند کر رکھا ہے۔
یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ دورے کا حصہ ہے جس کا مقصد واشنگٹن اور اس کے قریبی مشرقی ایشیائی اتحادی جاپان کے درمیان دہائیوں پر محیط سیکیورٹی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ تاہم جاپان میں ایران جنگ کی غیر مقبولیت کے باعث تکائچی نے اب تک آبنائے ہرمز میں کسی عملی تعاون کی پیشکش نہیں کی۔
ادھر جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے امریکی اتحادی خلیج میں کسی بھی مشن میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں، جس پر ٹرمپ ناراضگی کا اظہار کرچکے ہیں۔ سانائے تکائچی نے پیر کو جاپانی پارلیمان کو بتایا تھا کہ امریکا کی جانب سے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی، تاہم آئینی حدود کے اندر ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک ایشیا گروپ سے وابستہ سابق وائٹ ہاؤس عہدیدار کرس جانسٹون کے مطابق یہ ملاقات سانائے تکائچی کے لیے اچانک حساس نوعیت اختیار کر گئی ہے۔ ان کے بقول جاپانی وزیر اعظم امید کر رہی تھیں کہ وہ چین کے حوالے سے ٹرمپ کے دورے پر اثر انداز ہوں گی، مگر اب وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مطالبات پر ردعمل دینے والی پہلی اتحادی رہنما بن جائیں گی۔
گزشتہ سال جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننے کے بعد ٹرمپ نے ٹوکیو کے دورے میں تکائچی کی تعریف بھی کی تھی۔ جاپانی حکام کے مطابق وہ اس ملاقات میں چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ، خصوصاً تائیوان کے حوالے سے خطرات، کی جانب بھی توجہ دلانا چاہتی ہیں، تاہم ٹرمپ کا مجوزہ دورہ چین مؤخر کر دیا گیا ہے۔
بدھ کو امریکی انٹیلی جنس اداروں نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا جب انہوں نے کہا کہ تائیوان کی حمایت میں تکائچی کے گزشتہ سال کے بیانات جاپانی قیادت کے مؤقف میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم تکائچی کا مؤقف ہے کہ یہ پالیسی جاپان کے دیرینہ اصولوں کے مطابق ہے۔
ملاقات کے دوران تکائچی کو ایک جانب ٹرمپ کے بحری جہازوں سے متعلق مطالبات کو سنبھالنا ہوگا تو دوسری جانب داخلی آئینی اور سیاسی رکاوٹوں سے بھی بچنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق امریکا جاپان سے میزائل تیار کرنے یا مشترکہ طور پر بنانے کی درخواست بھی کر سکتا ہے تاکہ ایران جنگ اور یوکرین میں روس کے خلاف جنگ کے باعث ختم ہوتے امریکی اسلحہ ذخائر کو پورا کیا جا سکے، تاہم ٹوکیو اس حوالے سے غور کر رہا ہے۔
مزید برآں، تکائچی ٹرمپ کو آگاہ کریں گی کہ جاپان گولڈن ڈوم میزائل دفاعی منصوبے میں شمولیت کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا مقصد خلا سے آنے والے خطرات کی نشاندہی اور ان کا مقابلہ کرنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ ایران جنگ سے متعلق امریکی مطالبات اس ملاقات میں کس حد تک زیر بحث آئیں گے، تاہم ان کے مطابق دونوں رہنما 2025 میں طے پانے والے تجارتی معاہدے پر عملدرآمد، توانائی، محفوظ سپلائی چینز، علاقائی سیکیورٹی اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت دفاعی تعاون پر بھی بات کریں گے۔














